
حیدرآباد ، 23 مئی (ہ س)۔
نائب وزیراعلی بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ تلنگانہ حکومت فلاحی اسکیمات کواولین ترجیح دے رہی ہے۔ معاشی طورپرخود مکتفی بنانے کیلئے غریب اور کمزور طبقات کو حکومت کی اسکیمات سے مربوط کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیوچر سٹی کے قیام کے ذریعہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ نائب وزیراعلی نے حیدرآباد کی جامع ترقی کیلئے موسیٰ ندی ترقیاتی پروجیکٹ پرعمل آوری کا عزم ظاہر کیا۔ بھٹی وکرمارکا نے اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی کے 49 ویں اجلاس سے خطاب کیا۔ وزیر زراعت ٹی ناگیشور راؤ، اسپیشل چیف سکریٹری دانا کشور ، پرنسپل سکریٹری فینانس ، سندیپ کمار سلطانیہ ، سکریٹری فینانس و پلاننگ گورو اپل ، آر بی آئی کے ریجنل ڈائرکٹر چنمیا موہن ، ایس بی آئی کے چیف جنرل مینجر نلیش دیویدی اور دیگر بینکوں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ حکومت 2047 تک ریاست کی معیشت کو تین ٹریلین ڈالر تک ترقی دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بینکوں کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے اور بینکوں کے ڈپازٹس 9.43 لاکھ کروڑ تک پہنچ چکے ہیں جبکہ بینکوں نے 12.34 لاکھ کروڑ کے قرضہ جات جاری کئے۔ بھٹی وکرمارکا نے مسرت کا اظہار کیا کہ ریاست میں بینکوں نے زرعی شعبہ کو قرض کی اجرائی میں بہتر مظاہرہ کیا ہے۔ بینکوں کے لئے 165297 کروڑ کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا جبکہ بینکوں نے 168401 کروڑ زرعی قرض جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی معیشت کے استحکام میں زراعت کا اہم رول ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی ترقی کے معاملہ میں ملک کی دیگر ریاستوں سے سبقت حاصل کرچکا ہے۔ انہوں نے بینکوں کو مشورہ دیا کہ وہ چھوٹے اور اوسط درجہ کے کاروبار کے علاوہ خواتین دلت اور قبائلی صنعت کار کو قرض جاری کریں۔ بھٹی وکرمارکا نے بینکوں کو ایجوکیشن لون جاری کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ نوجوانوں کے بہتر مستقبل کیلئے بینکوں کو سرمایہ کاری کرنی چاہئے ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق