
حیدرآباد، 23 مئی (ہ س)۔ بی آرایس کے ڈپٹی فلور لیڈر وسابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیراعلی ریونت ریڈی کی پالیسیوں کی مذمت کی ۔ بیرونی ملک کے دورے پر رہنے والے ہریش راؤ نے مقامی میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سنسنی خیزاعلان کیا کہ تلنگانہ میں بی آرایس کے دوبارہ اقتدارمیں آتے ہی سب سے پہلے فیوچر سٹی کے منصوبے کو منسوخ کردیا جائےگا ۔ انہوں نے کانگریس حکومت پر سنگین الزام عائد کیا کہ وہ فیوچر سٹی کے خوبصورت نام کے پیچھے دراصل کسانوں کی قیمتی اراضیات پررئیل اسٹیٹ کا کالا کاروبار کررہی ہے اورکچھ مخصوص لوگوں کو فائدہ پہونچانے کے لیے زمینوں کی بندر بانٹ کے لیے وسیع منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ سابق وزیر نے واضح کیا کہ مرکزی وزارت ماحولیات نے صرف فارما سٹی کی منظوری دی تھی ۔ جس کی رو سے اس پورے پروجیکٹ کا 75 فیصد حصہ فارما صنعت اور صرف 25 فیصد حصہ دیگر متعلقہ شعبوں کے لیے ہونا چاہئے تھا ۔ لیکن ریونت ریڈی حکومت قانون کی مکمل خلاف ورزی کررہی ہے ۔ 75 فیصد حصہ رئیل اسٹیٹ کاروبار اور محض 25 فیصد حصہ فارما کے لیے مختص کررہی ہے جو کہ کسی بھی صورت میں قانوناً درست نہیں ہے ۔ ہریش راؤ نے ماضی کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ فارما سٹی کا یہ عظیم الشان منصوبہ بی آرایس دور حکومت میں شروع کیا گیاتھا اوران کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا تھاکہ ملک کی ایک بڑی فارما کمپنی ریاست سے باہرنہ جائے کیوں کہ اس پروجیکٹ کے آنے سے لاکھوں مقامی نوجوانوں کوروزگارکے مواقع ملنے تھے ۔ ہریش راؤ نے واضح کیا کہ کانگریس محض اس خوف سے فارما سٹی کوترقی نہیں دے رہی کہ کہیں اس کا سہرابی آرایس پارٹی کے سرنہ بندھ جائے ۔ لیکن وہ یہ صاف کردینا چاہتے ہیں کہ فارما سٹی اپنی اصل اورحقیقی شکل میں وہیں ضرور قائم ہوگی اور غریب کسانوں اور نوجوانوں کے حقوق کا ہرقیمت پر تحفظ کیا جائے گا ۔
۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق