دہلی فساد سازش کیس: سپریم کورٹ سے خالد سیفی کو 6 ماہ کی عبوری ضمانت، اے پی سی آر کا خیر مقدم
نئی دہلی،23 مئی(ہ س)۔ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے دہلی فساد سازش معاملہ میں سپریم کورٹ کی جانب سے خالد سیفی کو دی گئی چھ ماہ کی عبوری ضمانت کا خیر مقدم کیا ہے۔ تنظیم نے اس فیصلے کو نہ صرف خالد سیفی اور تسلیم احمد کے لیے ا
دہلی فساد سازش کیس: سپریم کورٹ سے خالد سیفی کو 6 ماہ کی عبوری ضمانت، اے پی سی آر کا خیر مقدم


نئی دہلی،23 مئی(ہ س)۔ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے دہلی فساد سازش معاملہ میں سپریم کورٹ کی جانب سے خالد سیفی کو دی گئی چھ ماہ کی عبوری ضمانت کا خیر مقدم کیا ہے۔ تنظیم نے اس فیصلے کو نہ صرف خالد سیفی اور تسلیم احمد کے لیے ایک بڑی راحت قرار دیا بلکہ اسے آئینی حقوق، قانونی تقاضوں اور شخصی آزادی کے تحفظ کے لیے عدالتی نگرانی کی اہمیت کی توثیق بھی بتایا ہے۔اے پی سی آر کے نیشنل سکریٹری ندیم خان کے مطابق تقریباً چھ برس تک طویل قید کے بعد عبوری ضمانت کا یہ فیصلہ انصاف کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ تنظیم نے امید ظاہر کی کہ خالد سیفی اور تسلیم احمد کو دی گئی چھ ماہ کی عبوری ضمانت بالآخر مستقل ضمانت میں تبدیل ہوگی۔ ندیم خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی فرد کو برسوں تک مقدمے کے حتمی فیصلے کے بغیر جیل میں رکھنا شخصی آزادی، انسانی وقار اور انصاف کے بنیادی اصولوں پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے، جنکی ضمانت ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ہر شہری کو حاصل ہے۔

یہ معاملہ سپریم کورٹ کے جسٹس اروند کمار اور جسٹس بی۔ پی۔ ورالے پر مشتمل بنچ کے سامنے زیرِ سماعت تھا۔ عدالت نے خالد سیفی اور تسلیم احمد کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اس بات کا مشاہدہ کیا کہ کے۔ اے۔ نجیب مقدمے کے اصولوں کی تشریح سے متعلق حالیہ ہم منصب بنچوں کے فیصلوں میں ایک “ممکنہ تضاد” پایا جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ عدالتی نظم و ضبط کا تقاضا ہے کہ ایسے اختلافات کو کسی بڑی بنچ کے ذریعے واضح اور حتمی طور پر طے کیا جائے۔سپریم کورٹ نے خالد سیفی اور تسلیم احمد کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت دیتے ہوئے متعدد شرائط بھی عائد کیں، جن میں مقدمے سے متعلق میڈیا سے گفتگو پر پابندی شامل ہے۔

ندیم خان نے بتایا کہ ان کی تنظیم اے۔ پی۔ سی۔ آر مسلسل خالد سیفی اور تسلیم احمد کی قانونی جدوجہد میں معاونت فراہم کرتی رہی ہے اور اس موقع پر اس نے مقدمے کی پیروی کرنے والی قانونی ٹیم کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا۔ خالد سیفی کی جانب سے سینئر وکیل ریبیکا جان کے ساتھ ایڈوکیٹس رجت کمار اور انوشکا بروا عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ Yash S. Vijay نے مقدمہ دائر کیا۔اے۔ پی۔ سی۔ آر نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ طویل مدت تک قید میں رکھے گئے افراد اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کرنے والے شہریوں کے لیے قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔ اے پی سی آر نے کہا کہ وہ آئینی اقدار، انصاف اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں مسلسل جاری رکھے گی تاکہ ہر شہری کو آئین کے تحت حاصل حقوق کا مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔تفصیلات کے مطابق یہ کیس FIR نمبر 59/2020 سے متعلق ہے، جس کا عنوان “عبدالخالد سیفی عرف خالد سیفی بنام ریاست (این سی ٹی دہلی)” ہے، اور یہ سپریم کورٹ میں SLP (Crl.) نمبر 3867/2026 کے تحت زیرِ سماعت ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande