
پٹنہ، 22 مئی (ہ س)۔شعبہ فارسی ، پٹنہ یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام ’’بہار میں فارسی زبان و ادب: ماضی، حال اور مستقبل‘‘ کے عنوان سے ایک اہم سمپوزیم منعقد ہوا، جس میں فارسی زبان و ادب کے فروغ، موجودہ صورتِ حال اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ پروگرام کی صدارت صدرِ شعبۂ فارسی پروفیسر محمد صادق حسین نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر مولانا ابوالکلام آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے رجسٹرار پروفیسر محمد اشتیاق احمد شریک ہوئے۔ بہار حکومت کے جوائنٹ سکریٹری ندیم الغفار صدیقی نے بحیثیت مہمانِ اعزازی شرکت کی۔پروگرام کے آغاز میں صدرِ شعبہ پروفیسر محمد صادق حسین نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ خطۂ بہار صدیوں سے فارسی زبان و ادب کا ایک اہم مرکز رہا ہے اور یہاں کے صوفیا، علما اور ادبا نے فارسی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ موجودہ دور میں فارسی زبان بعض چیلنجز سے دوچار ہے، تاہم حکومتِ بہار کی توجہ کے نتیجے میں ہائی اسکولوں میں تقریباً 600 نئی آسامیوں کی منظوری ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی (این ای پی) میں بھی فارسی زبان کو مناسب اہمیت دی گئی ہے۔انہوں نے اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ بہار میں اس وقت 208 ڈگری کالج قائم کیے جا چکے ہیں، اور اگر فارسی سے وابستہ افراد منظم اور مؤثر انداز میں حکومت سے مطالبہ کریں تو ان کالجوں میں شعبۂ فارسی کے قیام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔مہمانِ خصوصی پروفیسر محمد اشتیاق احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ بہار کی فارسی دوستی تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے چند مخصوص صوبوں میں فارسی کی تدریس اسکولی سطح سے جاری ہے اور بہار ان میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومتِ بہار مستقبل میں بھی فارسی زبان کی سرپرستی اور حمایت جاری رکھے گی۔مہمانِ اعزازی ندیم الغفار صدیقی نے کہا کہ فارسی زبان و ادب سے ان کا تعلق زمانۂ طالب علمی سے قائم ہے اور عملی زندگی میں آنے کے بعد بھی یہ وابستگی برقرار ہے۔ انہوں نے اس زبان کے بقا و تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔اس موقع پر روزنامہ انقلاب کے بیورو چیف اسفر فریدی نے تجویز پیش کی کہ 208 ڈگری کالجوں میں زبانوں کے شعبہ جات کے قیام کے لیے اردو، عربی، سنسکرت، میتھلی اور دیگر زبانوں کے دانشوران کو مشترکہ طور پر حکومتِ بہار سے مطالبہ کرنا چاہیے تاکہ ان مضامین کو شامل کرکے اساتذہ کی تقرری کو یقینی بنایا جاسکے۔پروگرام کے دوران شعبۂ فارسی کا خبرنامہ مہمانوں کو پیش کیا گیا۔ اسی موقع پر شعبہ میں نئے استاذ ڈاکٹر غلام عمر کی تقرری پر تمام مہمانوں، اساتذہ اور شرکاء نے انہیں مبارک باد پیش کی۔اس سمپوزیم میں شعبۂ فارسی کے اساتذہ ڈاکٹر ابو الکلام آزاد، ڈاکٹر محمد محمود عالم اور ڈاکٹر غلام عمر کے علاوہ ریسرچ اسکالرس پروین کمار، عبد المتین، دیگر دانشوران، اسکالرس اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan