ملک کے کئی شہروں میں جاری گرمی کی لہر سیاحوں کو کشمیر کی ٹھنڈی وادیوں کی طرف لے آئی
سرینگر، 22 مئی (ہ س)۔ ملک کے کئ شہر شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہیں، سیاح میدانی علاقوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے راحت حاصل کرنے کے لیے کشمیر کے مشہور مقامات جیسے گریز میں رازدان ٹاپ، وادی تلیل، وادی بنگس اور سونمرگ کا رخ کر رہے ہیں۔ دستیاب تفصیل
ملک کے کئی شہروں میں جاری گرمی کی لہر سیاحوں کو کشمیر کی ٹھنڈی وادیوں کی طرف لے آئی


سرینگر، 22 مئی (ہ س)۔ ملک کے کئ شہر شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہیں، سیاح میدانی علاقوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے راحت حاصل کرنے کے لیے کشمیر کے مشہور مقامات جیسے گریز میں رازدان ٹاپ، وادی تلیل، وادی بنگس اور سونمرگ کا رخ کر رہے ہیں۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق کئی ریاستوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر جانے کے ساتھ سیاح بڑی تعداد میں وادی کا رخ کر رہے ہیں۔ بانڈی پورہ کو وادی گریز سے جوڑنے والے اونچائی والے پہاڑی درے رازدان ٹاپ پر، سیاحوں کو تازہ برف سے لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا، جو مئی کے مہینے میں ایک غیر معمولی منظر تھا۔مئی میں برف دیکھنا ناقابل یقین محسوس ہوتا ہے۔ ہم دہلی سے آئے ہیں جہاں درجہ حرارت بہت زیادہ ہے، اور یہاں ہم برف میں کھیل رہے ہیں اور جیکٹس پہن رہے ہیں۔ ان الفاظ کا اظہار روہن شرما نے کیا جو دلی سے یہاں آۓ ہیں۔پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایک اور سیاح مہک گپتا نے کہا کہ کشمیر کا موسم میدانی علاقوں میں چلچلاتی گرمی سے بڑی راحت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سوشل میڈیا پر رازدان ٹاپ کی ویڈیوز دیکھی تھیں، لیکن مئی میں یہاں برف باری کا مشاہدہ بالکل مختلف ہے۔ اس جگہ کی خوبصورتی بے مثال ہے۔ سونمرگ اور بنگس وادی میں بھی سیاحوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوا ہے، جہاں سیاح برف سے ڈھکی چوٹیوں، ندی نالوں اور وسیع سبز چراگاہوں کے قریب وقت گزار رہے ہیں۔ سونمرگ میں، سیاحوں کو ٹٹو کی سواری کرتے اور سندھ ندی کے کنارے ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا۔راجستھان میں گرمی کی وجہ سے دن کے وقت باہر قدم رکھنا ناممکن ہے۔ کشمیر کا موسم خوشگوار اور تروتازہ ہے۔ان باتوں کا اظہار راجستھان کے سیاحوں نے کیا ہے۔ شمالی کشمیر کی بنگس وادی میں، جو اپنے گھنے جنگلات اور وسیع و عریض میدانوں کے لیے مشہور ہے، سیاحوں نے اس منظر کو پرامن اور خوبصورت قرار دیا۔ ممبئی کی ایک سیاح ثنا خان نے کہا، بنگس کی قدرتی خوبصورتی غیر معمولی ہے۔ مقامی سیاحت کے اسٹیک ہولڈرز نے کہا کہ کشمیر میں غیر معمولی مقامات پر اس سیزن میں آمدورفت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ زیادہ سیاحوں نے سری نگر اور گلمرگ سے آگے غیر معروف مقامات کی سیر کی۔ گریز میں مقامی ٹورسٹ گائیڈ ہلال احمد نے کہا، سیاح اب غیر دریافت شدہ جگہوں کی تلاش میں ہیں۔ گریز، تلیل اور بنگس اپنی قدرتی خوبصورتی، خوشگوار موسم اور پرامن ماحول کی وجہ سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ سونمرگ میں ایک اور گائیڈ مشتاق احمد نے کہا کہ بہت سے سیاح ٹھنڈے موسم کی وجہ سے اپنے قیام کو بڑھا رہے ہیں۔دہلی، راجستھان اور پنجاب سے آنے والے لوگ یہاں کی آب و ہوا سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ بہت سے سیاح مئی کے دوران رازدان ٹاپ پر برف دیکھ کر حیران ہیں۔ سیاحت کے شعبے کے عہدیداروں نے کہا کہ حالیہ موسمی حالات اور آف بیٹ مقامات کی سوشل میڈیا پر تشہیر نے پوری وادی میں سیاحوں کی آمد میں اضافہ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir


 rajesh pande