
جلگاؤں، 22 مئی (ہ س)۔ جلگاؤں ضلع کے بودوڈ تعلقہ میں پیش آئے قتل کے معاملے کے بعد پولیس انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس سنگین واقعے کے پس منظر میں بودوڈ پولیس اسٹیشن کی مبینہ غفلت اور قانون و نظم برقرار رکھنے میں ناکامی سامنے آنے کے بعد اعلیٰ پولیس حکام نے اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر (اے پی آئی) سمیت تین پولیس افسران اور اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ معطل کیے گئے اہلکاروں میں اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر دیپک سروڈکر، اے ایس آئی رویندر گرچل اور ہیڈ کانسٹیبل نند کشور دھانکے شامل ہیں۔ محکمانہ جانچ رپورٹ میں بودوڈ پولیس اسٹیشن میں سنگین بدانتظامی اور لاپرواہی کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پولیس اسٹیشن میں درج ایک سنگین تنازعے میں دو گروہوں کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی تھی، مگر واضح اشارے ملنے کے باوجود متعلقہ افسران نے بروقت اور مناسب اقدامات نہیں کیے۔ جانچ میں کہا گیا ہے کہ اسی لاپرواہی کے سبب تنازع شدت اختیار کرتا گیا اور آخرکار قتل کی واردات پیش آئی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ہیڈ کانسٹیبل نند کشور دھانکے کو دونوں گروہوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر احتیاطی کارروائی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، مگر انہوں نے معاملے کی سنگینی کو نظر انداز کرتے ہوئے ضروری قانونی کارروائی مکمل نہیں کی۔اسی طرح ٹاؤن بیٹ انچارج اے ایس آئی رویندر گرچل کے بارے میں بھی جانچ میں انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔رپورٹ کے مطابق وہ تنازعے کے بعد موقع پر پہنچے تھے، لیکن متعلقہ افراد کو پولیس اسٹیشن لا کر سخت کارروائی کرنے کے بجائے انہیں چھوڑ دیا گیا۔جانچ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اس وقت احتیاطی کارروائی کی جاتی تو بعد کا سنگین واقعہ روکا جا سکتا تھا۔انچارج افسر اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر دیپک سروڈکر پر بھی سنگین ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔انہیں فون اور واٹس ایپ کے ذریعے پورے تنازعے کی اطلاع دی گئی تھی اور مقامی عوامی نمائندوں نے بھی صورتحال کو حساس قرار دیا تھا، مگر اس کے باوجود انہوں نے نہ خود کوئی ٹھوس قدم اٹھایا اور نہ ہی ماتحت اہلکاروں کو فوری ہدایات جاری کیں۔اس کے علاوہ انہوں نے اعلیٰ افسران اور کنٹرول روم کو بھی وقت پر اطلاع نہیں دی۔ محکمانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں کی مبینہ غیرفعالیت کے باعث علاقے میں قانون و نظم کی صورتحال بگڑ گئی اور بالآخر قتل کی واردات پیش آئی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تینوں اہلکاروں کو فوری اثر سے معطل کر کے مزید محکمانہ جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے