مدھیہ پردیش حکومت ژچہ بچہ کی صحت کے تئیں حساسیت اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے: وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو
ماں کی جان بچانے میں ہندوستان آگے بڑھا، مدھیہ پردیش کی ترقی قومی اوسط سے دگنی بھوپال، 22 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت ژچہ بچہ کی صحت کی خدمات کو اولین ترجیح دیتے ہوئے پوری حساسیت اور عزم کے ساتھ
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو )فائل فوٹو(


ماں کی جان بچانے میں ہندوستان آگے بڑھا، مدھیہ پردیش کی ترقی قومی اوسط سے دگنی

بھوپال، 22 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت ژچہ بچہ کی صحت کی خدمات کو اولین ترجیح دیتے ہوئے پوری حساسیت اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ہر ماں اور ہر نوزائیدہ بچے کی محفوظ زندگی کو یقینی بنانا ہماری حکومت کا عزم ہے۔ صحت کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور زمینی سطح تک خدمات کی رسائی کے نتیجے میں مدھیہ پردیش میں زچگی کے دوران ماوں کی شرحِ اموات میں نمایاں کمی درج کی گئی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے جمعہ کے روز اپنے بیان میں ایس آر ایس سروے میں نمایاں پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے محکمۂ صحت کے عملے کو مبارکباد دی ہے اور مسلسل کوششیں جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔

نائب وزیرِ اعلیٰ راجیندر شکلا نے بھی کہا کہ ماوں کی صحت کی خدمات کو مضبوط کرنے کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے کی جانے والی مسلسل کوششوں کے مثبت نتائج اب واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں ماوں کی شرحِ اموات میں آئی تاریخی گراوٹ صحت کے نظام کے عزم، زمینی سطح پر کام کرنے والے عملے کی محنت اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کا نتیجہ ہے۔ حکومتِ ہندوستان کے سیمپل رجسٹریشن سسٹم (ایس آر ایس) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں زچگی کے دوران اموات کا تناسب (ایم ایم آر) 20-2018 کے 97 سے گھٹ کر 24-2022 میں 87 فی ایک لاکھ زندہ پیدائش پر آ گیا ہے۔ مدھیہ پردیش نے اس سمت میں قومی اوسط سے کہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ریاست کا ایم ایم آر 20-2018 میں 173 تھا، جو 24-2022 میں گھٹ کر 135 رہ گیا ہے۔ یہ 38 پوائنٹس یعنی تقریباً 22 فیصد کی گراوٹ ہے، جو قومی اوسط سے دگنی سے بھی زیادہ ہے۔ اسپتالوں میں محفوظ زچگی کو فروغ دینے، تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور عملے کی دستیابی کو یقینی بنانے اور ہنگامی زچگی کی خدمات کی توسیع سے مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل مستحکم کیا گیا ہے۔ زچگی کے مراکز، میٹرنٹی انٹرنیشنل کیئر یونٹس (آبسٹیٹرک ایچ ڈی یو)، ایف آر یو اور سی ای مانی کی سہولیات میں توسیع کی گئی ہے۔ بلڈ اسٹوریج یونٹس کے قیام اور ریفرل ٹرانسپورٹ کے نظام کو مضبوط کرنے سے حاملہ خواتین کو وقت پر معیاری علاج دستیاب ہو رہا ہے۔ ٹیکنالوجی پر مبنی صحت کی خدمات نے بھی ماوں کی شرحِ اموات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انمول 2.0 ایپلی کیشن کے ذریعے زیادہ خطرے والی (ہائی رسک) حاملہ خواتین کا ریئل ٹائم رجسٹریشن، جانچ اور فالو اپ یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ’سمن سکھی‘ چیٹ بوٹ کے ذریعے حاملہ خواتین اور ان کے اہل خانہ کو ماؤں کی صحت سے متعلق معلومات اور ضروری رہنمائی 24×7 دستیاب کرائی جا رہی ہے۔

نائب وزیرِ اعلیٰ شکلا نے کہا کہ ’سمن‘ پہل کے تحت ہائی رسک پریگننسی کی شناخت، ٹریکنگ اور ترجیحی بنیادوں پر مینجمنٹ کیا جا رہا ہے، تاکہ زچگی سے پہلے، زچگی کے دوران اور زچگی کے بعد ہونے والی پیچیدگیوں کو وقت رہتے کنٹرول کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کی خدمات کی مسلسل توسیع، آشا کارکنوں کے سرگرم تعاون اور دور دراز و قبائلی علاقوں تک صحت کی سہولیات کی بہتر رسائی کے ذریعے مدھیہ پردیش سال 2030 تک پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) کے تحت زچگی کے دوران اموات کے تناسب کو 70 سے نیچے لانے کے ہدف کی سمت میں منظم کوششیں جاری رکھے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande