
علی گڑھ, 22 مئی (ہ س)۔
گاؤں کی پہچان سمجھے جانے والے سرسبز آم کے باغات اب دھیرے دھیرے ماضی کا قصہ بنتے جا رہے ہیں۔ پھلوں کے بادشاہ آم کی خوشبو آج بھی بازاروں میں محسوس کی جا سکتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ زمین پر اس کی سلطنت سکڑتی جا رہی ہے۔ بڑھتی لاگت، چیمپا بیماری، قدرتی آفات اور بدلتے موسم نے کسانوں کی امیدوں کو کمزور کر دیا ہے۔
اسی وجہ سے اب کسان نئے باغات لگانے سے گریز کرنے لگے ہیں اور صرف پرانے باغات کو بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔
دھنی پور بلاک کے گاؤں شیخوپور، بہرام پور، خرئی، کھٹکاری، رہسوپور اور قصبہ جلالی کبھی آم کے گھنے باغات اور ٹھنڈی چھاؤں کے لیے مشہور تھے۔ اسی طرح اترولی، جواں اور اکنرباد علاقوں میں بھی دور دور تک پھیلے باغات فطرت کی خوبصورتی کی علامت سمجھے جاتے تھے، مگر اب یہ منظر آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہا ہے۔
ان باغات میں دیسی، چوسا، لنگڑا اور دسہری جیسی مشہور اقسام کے آم پیدا ہوتے ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ باغات کا رقبہ بڑھنے کے بجائے مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔
ضلع میں تقریباً 1850 ہیکٹیئر رقبے پر آم کے باغات موجود ہیں، جہاں سے سالانہ تقریباً 20,300 میٹرک ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے، تاہم گزشتہ 3 برس سے اس پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکا ہے۔
نئے باغات نہ لگنے کی وجہ سے مستقبل خطرے میں دکھائی دے رہا ہے، جبکہ پرانے باغات بھی ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ اس سال بھی پیداوار میں کمی کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بورا آنے کے دوران بڑھتے درجہ حرارت، آندھی، بارش اور ژالہ باری نے باغات کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے باعث کئی کسانوں کی برسوں کی محنت متاثر ہوئی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ