
شملہ، 21 مئی (ہ س)۔
سابق وزیر اعلیٰ اور سابق مرکزی وزیر شانتا کمار نے ملک میں آوارہ کتوں اور جانوروں کی بڑھتی ہوئی پریشانی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حیران کن ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں آوارہ کتوں کا مسئلہ بار بار سپریم کورٹ تک پہنچ رہا ہے۔
جمعرات کو جاری ایک بیان میں شانتا کمار نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ذمہ داری آئین اور ملک کے نظم و نسق کے نظام کی نگرانی کرنا ہے لیکن عدالت کو آوارہ کتے کے مسئلے جیسے معاملات پر مداخلت کرنے کی ضرورت گورننس میں ایک بڑی خامی کو ظاہر کرتی ہے۔
شانتا کمار نے کہا کہ ملک بھر میں کتے کے کاٹنے کے لاکھوں واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ آوارہ جانور کئی جگہوں پر سڑکوں پر ٹریفک میں خلل ڈال رہے ہیں ۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ ملک بھر میں چھوٹے اور بڑے ہزاروں مندروں کے پاس کروڑوں روپے کی جائیداد اور فنڈز ہیں۔ اگر ہر مندر کو گو¿ شالہ چلانے کی ذمہ داری دی جائے تو عقیدت مندوں کی طرف سے عطیہ کی گئی رقم کا مو¿ثر طریقے سے استعمال ہو گا اور مندروں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے ہر شہر میں بلدیات اور میونسپل کونسل جیسے بڑے ادارے ہیں جن کے کروڑوں اور اربوں روپے کے بجٹ ہیں۔ اس کے باوجود آوارہ کتوں اور دیگر جانوروں کے مسئلے کا کوئی مستقل حل نظر نہیں آتا۔ حکومت کتوں کی نسل بندی کی مہم چلا کر اور ان کے لیے علیحدہ علاقے مختص کر کے کنٹرول کر سکتی ہے۔
شانتا کمار نے بتایا کہ گائے، جسے ’گوماتا‘ کہا جاتا ہے، اب سڑکوں پر کچرا اور گندگی کھانے پر مجبور ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ مندر کی املاک اور وسائل کے صحیح استعمال کو یقینی بناتے ہوئے اس مسئلے کو جلد حل کیا جائے، تاکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت پر لگے اس کلنک کو دور کیا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ