
دیواس میں نرمدا ندی میں نہانے گئے تین دوستوں کی ڈوبنے سے موت، ایک کو ملاحوں نے بچایا
دیواس، 21 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دیواس ضلع سے ایک بیحد افسوسناک خبر سامنے آئی ہے، جہاں جمعرات کی دوپہر نرمدا ندی میں نہانے گئے چار دوست گہرے پانی میں ڈوب گئے۔ اس حادثے میں تین نوجوانوں کی موقع پر ہی موت ہو گئی، جبکہ ایک نوجوان کو مقامی ملاحوں اور گاوں والوں نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محفوظ باہر نکال لیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ جمعرات کی دوپہر راجور علاقے کا ہے۔ کھاتے گاوں سے چار دوست نرمدا ندی میں نہانے کے لیے راجور گھاٹ پہنچے تھے۔ ندی میں اترنے کے کچھ ہی دیر بعد چاروں دوست نہاتے نہاتے گہرے پانی کی طرف چلے گئے۔ پانی کا اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ خود کو سنبھال نہیں سکے اور ڈوبنے لگے۔ چیخ و پکار سن کر ندی کے کنارے موجود مقامی لوگ اور ملاح فوراً ان کی مدد کے لیے پانی میں کود پڑے۔ ملاحوں نے تقریباً 15 فٹ گہرے پانی سے چاروں کو باہر نکالا، لیکن تب تک تین نوجوانوں کی سانسیں تھم چکی تھیں۔
ندی سے نکالے گئے متوفیان کی شناخت کھاتے گاوں کے رہنے والے سنی ولد شرون، گولو ولد نٹور اور موضع کنا کے رہنے والے آیوش ولد تیجارام کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ آیوش بھی ان دنوں کھاتے گاوں میں ہی رہ رہا تھا۔ تینوں متوفیان کی عمر محض 17 سے 20 برس کے درمیان تھی۔ وہیں، اس حادثے میں کھاتے گاوں کے ساکن ویویک ولد دلیپ کو وقت رہتے ملاحوں نے محفوظ بچا لیا، جس سے ان کی جان بچ گئی۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نفری کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس نے پنچنامہ تیار کر کے تینوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھجوا دیا ہے۔ واقعے کے بعد ندی کے کنارے بڑی تعداد میں گاوں والوں کا ہجوم جمع ہو گیا۔ مقامی لوگوں نے انتظامیہ کے خلاف برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نرمدا کے ان خطرناک گھاٹوں پر سیکیورٹی کے پختہ انتظامات کیے جائیں اور گہرے پانی والے خطرناک مقامات پر فوری طور پر وارننگ بورڈ لگائے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات کو روکا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن