
معین الدین آرٹ گیلری میں قومی آرٹ نمائش اختتام پذیر
علی گڑھ، 21 مئی (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی معین الدین احمد آرٹ گیلری میں سات روزہ قومی آرٹ نمائش ‘‘فریگمنٹس آف ایپیفینی’’ کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچی جس میں ملک بھر سے فنکاروں، ماہرین اور آرٹ اداروں نے شرکت کی۔ کیوریٹر اور گیلری کوآرڈینیٹر پروفیسر بدر جہاں نے بتایا کہ اس نمائش کا مقصد فن کے تبادلے، تخلیقی تحریک اور تنقیدی مکالمے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ نمائش میں فن پاروں کے علاوہ پینل مباحثے، ورکشاپ اور پرفارمنسز بھی شامل تھیں جن میں عصری فنونِ لطیفہ، آرٹ میں سیاست اور تخلیقی اظہار میں مصنوعی ذہانت و ٹکنالوجی کا کردار جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ نمائش کے دوران بیہان داس اور شمیم اختر خان کے سیشنز خاص توجہ کا مرکز رہے، جن میں عصری آرٹ اور کیوریٹریل پریکٹیسز پر روشنی ڈالی گئی۔ اختتامی تقریب میں پروفیسر ہِم کمار چٹرجی اور پروفیسر راجن شری پد پھلاری پر مشتمل جیوری نے6 فن پاروں کو عمدہ ترین آرٹ ورک ایوارڈز کے لیے منتخب کیا۔
کروکشیتر یونیورسٹی کی مس اننیا گپتا کو ان کی پینٹنگ ‘‘سیلف’’ کے لئے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسی طرح مسٹر اشون ستھیان (گورنمنٹ کالج آف فائن آرٹس، ترواننت پورم) کو ان کے فن پارے ‘‘ڈیکوریشن آف ٹیرین-4’’ کے لئے ،مسٹر محمد ریاض (گورنمنٹ فائن آرٹ کالج، گوالیار) کو ان کے فن پارے ‘‘اطمینان’’ کے لئے ، متھرا کی مس رجنِی آریہ کو ان کے فن پارے ‘‘ہائپر بولک ردھم آف اوشن’’ کے لئے ،اے ایم یو کی مس مسرت اسراری کو ان کے انسٹالیشن ‘‘دی کانفلکٹ ودِن’’ کے لئے اور اے ایم یو کے آرین پرتاپ سنگھ کو ان کی پیشکش ‘‘خسرو سے ایک ملاقات’’ کے لئے ایوارڈ پیش کئے گئے۔ نمائش کا اختتام اے ایم یو کے طلبہ کی شاندار موسیقی پرفارمنس کے ساتھ ہوا۔
اس سے قبل نمائش کا افتتاح وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے پروفیسر ہِم کمار چٹرجی اور پروفیسر راجن شری پد پھلاری کی موجودگی میں کیا تھا۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ