
بھوپال، 21 مئی (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سینئر کانگریس لیڈر کمل ناتھ نے بی جے پی حکومت پر کسانوں کے ساتھ دھوکہ دہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں کسانوں کو منصوبوں اور ادائیگیوں کے نام پر مسلسل پریشان کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کسان سمان ندھی یوجنا سے ہٹائے گئے 3 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو فوری طور پر دوبارہ شامل کرنے اور گندم کی خریداری کی ادائیگی میں سائبر فراڈ کا شکار ہونے والے کسانوں کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کمل ناتھ نے جمعرات کو میڈیا کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ بی جے پی حکومت ایک طرف کسان سمان ندھی یوجنا کی مسلسل تشہیر کرتی ہے، تو دوسری طرف بڑی تعداد میں کسانوں کے نام خاموشی سے اس منصوبے سے باہر کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سال 25-2024 میں ریاست کے 86.49 لاکھ کسانوں کو کسان سمان ندھی کا فائدہ مل رہا تھا، لیکن سال 26-2025 میں یہ تعداد گھٹ کر 83.01 لاکھ رہ گئی ہے۔ یعنی ایک سال کے اندر 3 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو اس اسکیم سے باہر کر دیا گیا۔
کمل ناتھ نے کہا کہ ریاست میں 80 ہزار سے زیادہ کسانوں کی ای-کے وائی سی التوا میں ہے، جبکہ 1.87 لاکھ کسانوں کے بینک کھاتے آدھار سے لنک نہیں ہونے کی وجہ سے انہیں اسکیم کی قسط نہیں مل پا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اہل کسانوں کو پریشان کرنے کے بجائے ان کے مسائل کا فوری حل نکالا جائے اور تمام کسانوں کے کھاتوں میں سمان ندھی کی رقم جاری کی جائے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے شیوپوری ضلع میں گندم کی خریداری کی ادائیگی میں سامنے آئے مبینہ سائبر فراڈ کو بیحد سنگین معاملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں نے ایم ایس پی پر گندم فروخت کی، لیکن ادائیگی ان کے کھاتوں میں پہنچنے کے بجائے مشتبہ کھاتوں میں ٹرانسفر ہو گئی۔ کمل ناتھ نے کہا کہ کسان سال بھر محنت کر کے فصل تیار کرتا ہے اور جب ادائیگی کا وقت آتا ہے تو سائبر جعلساز اس کی کمائی ہڑپ لیتے ہیں۔ یہ بیحد تشویشناک صورتحال ہے۔
کمل ناتھ نے مطالبہ کیا کہ شیوپوری معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کر کے دوشی افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی، جن کسانوں کے ساتھ سائبر فراڈ ہوا ہے، انہیں حکومت فوری طور پر پورا معاوضہ فراہم کرے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن