آئی آئی ٹی روڑکی کے طالب علم کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے اہل خانہ نے کیا سڑک جام، پولیس پر معاملے کو دبانے کا الزام
نوادہ، 21 مئی (ہ س)۔ ضلع کے ککولت پہاڑ کے او پر واقع امجھول کنڈ میں ڈوبنے سے آئی آئی ٹی طالب علم کی موت کو قتل بتاتے ہوئے جمعرات کے روز لواحقین نے نوادہ کلکٹریٹ اور پرجا تنتر چوک کو جام کر کے پولیس پر قتل کے معاملے کو دبانے کاالزام لگاتے ہوئے قصو
آئی آئی ٹی روڑکی کے طالب علم کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے اہل خانہ نے کیا سڑک جام، پولیس پر معاملے کو دبانے کا الزام


نوادہ، 21 مئی (ہ س)۔ ضلع کے ککولت پہاڑ کے او پر واقع امجھول کنڈ میں ڈوبنے سے آئی آئی ٹی طالب علم کی موت کو قتل بتاتے ہوئے جمعرات کے روز لواحقین نے نوادہ کلکٹریٹ اور پرجا تنتر چوک کو جام کر کے پولیس پر قتل کے معاملے کو دبانے کاالزام لگاتے ہوئے قصورواروں پر کارروائی کا مطالبہ کیا۔

متوفی طالب علم دھنراج کے والد سی آر پی ایف سپاہی ہیمنت راج نے کہا کہ انہیں آسام میں ڈیوٹی کے دوران اپنے بیٹے کی موت کا علم ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے بڑی مشکل سے نوادہ کا سفر کیا۔نوادہ پہنچنے کے 36 گھنٹےبعد بڑی مشکل سے ان کے بیٹے کی لاش ککولت پہاڑ کے چار کلو میٹر دور واقع کنڈ سے نکالی گئی ۔

لاش کو دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کی موت نہیں بلکہ قتل ہوا ہے۔ ا نہوں نے الزام لگایا کہ نوادہ ضلع کے رجولی تھانے کے تحت آندھرباری گاؤں کے رہنے والے امت کمار اور اکبر پور تھانے کے تحت مہانند پور گاؤں کے رہنے والے آنند کمار منگل کے روزاسے پہاڑی پر لے گئے۔ اس کے بعد انہوں نے ڈوبنے کی اطلاع دی اور قتل معاملے کو دبا دیا۔

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کا بیٹا ڈوبنے سے نہیں مرا۔ اگر وہ ڈوب جاتا تو اس کے پیٹ میں پانی آتا۔ حالانکہ بیٹے کے پیٹ میں پانی نہیں ملا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسے وہاں لے جانے والے دو نوجوانوں نے اس کا قتل کر کے ڈوبا دیا۔

انہوں نے کہا کہ تھالی تھانہ انچارج کلیدی ملزم کو تھانے میں عزت کے ساتھ کھانا کھلا رہا ہے، جبکہ متاثرہ کے خاندان کے ساتھ بدسلوکی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور اسے تھانے سے بھگایا گیا۔

جمعرات کے روز پوسٹ مارٹم کے بعد متوفی کے والد ہیمنت راج نے سینکڑوں لوگوں کے ساتھ نوادہ کے پرجاتنترتا چوک کو جام کر دیا اور پولیس کے اعلیٰ افسران سے اعلیٰ سطحی تحقیقات اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وہ واضح طور پر مانتے ہیں کہ یہ ڈوبنے کا معاملہ نہیں تھا بلکہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا تھا۔ قاتلوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

سڑک جام ہونے کی وجہ سے نوادہ شہر گھنٹوں تک افراتفری کا شکار رہا۔ سینکڑوں گاڑیاں جام میں پھنس گئیں۔ سڑکوں پر ٹریفک متاثر ہوئی۔ جس کی وجہ سے مریضوں اور عام شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسکول کے بچے بھی گھنٹوں سڑک جام میں پھنسے رہے ۔ متوفی کے والد کے دوست ابھے کمار نے کہا کہ اگر مناسب تحقیقات نہیں کی گئیں تو شدید احتجاج کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande