
نئی دہلی، 21 مئی (ہ س)۔ دہلی اورقومی راجدھانی خطے(این سی آر) میں جمعرات کو ٹرک، ٹیکسی اور آٹو ڈرائیوروں کی تین روزہ ہڑتال شروع ہوگئی۔ آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس (اے آئی ایم ٹی سی) کی کال پر، تقریباً 68 ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنوں نے تجارتی گاڑیوں پر گرین ٹیکس (ماحولیاتی معاوضہ سیس) میں اضافہ کرنے کے دہلی حکومت کے فیصلے کے خلاف ہڑتال شروع کی ہے۔
دہلی میں ہڑتال کا خاصا اثر ہے۔ ریلوے اسٹیشنوں اور بس ٹرمینلز پر مسافروں کو خاصی تکلیف کا سامنا ہے، وہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ بڑے بازاروں میں ٹرک اور تجارتی گاڑیاں قطار میں کھڑی نظر آتی ہیں۔ مسافروں کا بڑا ہجوم قومی دارالحکومت کے کئی ریلوے اسٹیشنوں کے باہر انتظار کرتے ہوئے، بسوں اور میٹرو اسٹیشنوں کی طرف جاتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔ ہڑتال دہلی-این سی آر میں دودھ، پھلوں اور سبزیوں جیسی ضروری اشیاءکی سپلائی کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ ضروری خدمات میں شامل ٹرانسپورٹروں نے بھی بند کی مکمل حمایت کی ہے۔
یونین ٹرک، ٹیکسی اور آٹو کے کرایوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہی ہے، کیونکہ کئی برسوں سے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ یونین کا کہنا ہے کہ سی این جی اور دیگر ضروری اشیاءکی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس (اے آئی ایم ٹی سی)، ٹرک ڈرائیوروں، پرائیویٹ بس، ٹیکسی اور میکسی کیب آپریٹروں کی اعلیٰ تنظیم نے منگل کو ایک میٹنگ میں ہڑتال کی کال دی تھی۔ دہلی-این سی آر میں روزانہ لاکھوں لوگ ان پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں، اس لیے اس ہڑتال کا اثر ٹریفک پر محسوس کیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد