
لاتور، 21 مئی (ہ س)۔ احمدپور نگر پریشد میں پلاٹ گنٹھے واری ریگولرائزیشن کے لیے اضافی رقم طلب کیے جانے کے معاملے میں انسدادِ رشوت ستانی محکمہ نے شہری سطح کے ایک تکنیکی ماہر اور ایک دیگر شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد نگر پریشد انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ شکایت گزار کے مطابق ان کی اہلیہ کے نام پر موجود پلاٹ کی گنٹھے واری منظوری کے لیے چھ ماہ قبل نگر پریشد احمدپور میں درخواست داخل کی گئی تھی۔
الزام ہے کہ اس کام کے لیے شہری سطح کے تکنیکی ماہر ایس بی شولاپورے کی جانب سے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے والے شیوپوجے نے ایک لاکھ 25 ہزار روپے کا مطالبہ کیا تھا، جن میں سے 30 ہزار روپے پہلے ہی وصول کیے جا چکے تھے۔ انسدادِ رشوت ستانی محکمہ نے 26 فروری 2026 کو پنچوں کی موجودگی میں جانچ کی، جس میں معلوم ہوا کہ گنٹھے واری ریگولرائزیشن کی اصل فیس ایک لاکھ 19 ہزار 621 روپے تھی، جبکہ ایک لاکھ 91 ہزار روپے طلب کیے گئے تھے۔ جانچ میں انکشاف ہوا کہ اضافی 71 ہزار 379 روپے بطور رشوت مانگے گئے تھے۔
شکایت گزار کی جانب سے سرکاری فیس جمع کرنے کے بعد اس کی رسید بھی ملزمان نے فراہم کی تھی۔ بعد ازاں رشوت کی رقم وصول نہ کیے جانے کی تصدیق ہونے پر ٹریپ کارروائی روک دی گئی۔ اس معاملے میں احمدپور پولیس اسٹیشن میں انسدادِ بدعنوانی قانون 1988 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ملزمان کو اب تک گرفتار نہیں کیا گیا، تاہم انہیں بی این ایس ایس دفعات کے تحت نوٹس جاری کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس کارروائی کی قیادت پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سنتوش برگے نے کی، جبکہ مزید تفتیش پولیس انسپکٹر وشال بہاترے انجام دے رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے