
اسکولی تعلیم میں آٹھویں سے بارہویں جماعت تک اے آئی کی مہارتوں کو شامل کیا جائے: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو
گیسٹ ٹیچر کی تقرری کا عمل یکم جولائی سے پہلے مکمل کرنے کی ہدایت
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے محکمۂ اسکولی تعلیم کے منصوبوں اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا
بھوپال، 21 مئی (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ سمراٹ وکرمادتیہ کی سوانح عمری کو اسکولی نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ گرو ساندیپنی کی زندگی پر بھی ایک دلچسپ کتاب تیار کی جائے۔ اسکولی تعلیم میں آٹھویں سے بارہویں جماعت تک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مہارتوں کو کس طرح جوڑا جائے، اس پر بھی ایک ایکشن پلان تیار کیا جائے۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے جمعرات کے روز منترالیہ میں محکمۂ اسکولی تعلیم کے مختلف منصوبوں اور دیگر سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں اسکولی تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے وزیر ادے پرتاپ سنگھ بھی موجود تھے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پرائیویٹ اسکول کھولنے کے لیے سماجی اداروں اور تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ گیسٹ ٹیچر کی تقرری کا عمل یکم جولائی سے پہلے پورا کر لیا جائے۔ تعلیمی سیشن شروع ہونے سے پہلے اسکولوں میں تمام تیاریاں مکمل کر لی جائیں۔ ریاست کے تمام جزوی طور پر خستہ حال اسکولوں کی فوری مرمت کرائی جائے۔ تمام اسکولوں میں باونڈری والز بنائی جائیں۔ ایک جولائی سے گرو پورنیما (29 جولائی) تک ’’شیکشک وندنا پروگرام‘‘، والدین اور عوامی نمائندوں کی موجودگی میں منعقد کیا جائے۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش کو ترقی یافتہ اور خود کفیل بنانے کے لیے ہماری حکومت ساندیپنی اسکول جیسے جدید ترین اسکولوں میں معیاری تعلیم فراہم کر کے ریاست کی بنیاد مضبوط کر رہی ہے۔ ریاست کے ہر طالب علم تک بہترین تعلیمی سہولیات اور وسائل بروقت پہنچانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ محکمہ جاتی سرگرمیوں میں تیزی لائیں اور 16 جون سے شروع ہو رہے تعلیمی سیشن سے پہلے تمام انتظامات مکمل کر لیے جائیں۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اسکولوں میں سابق طلبہ کی کانفرنسیں منعقد کی جائیں، تاکہ جو طلبہ اپنے اسکول سے جذباتی طور پر جڑے ہوئے ہیں، وہ اس اسکول کی ترقی اور توسیع میں کچھ تعاون بھی کر سکیں گے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے افسران کو ریاست میں معیاری تعلیم کے لیے تمام انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے امتحان نتائج کو مزید بہتر بنانے کے لیے تعلیمی معیار کو سدھارنے، باقاعدہ مانیٹرنگ، ٹیکنالوجی اور اختراع پر مبنی طریقۂ تدریس اپنانے کی ہدایات بھی دیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے جن اسکولوں کا رزلٹ سو فیصد رہا ہے، وہاں کے اساتذہ کا عوامی طور پر اعزاز کیا جائے گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ریاست میں 26 اسکول ایسے ہیں، جہاں امتحان نتائج سو فیصد رہے ہیں، یعنی وہاں کے تمام طلبہ کامیاب ہو گئے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ان اسکولوں کے علاوہ 90 یا 95 فیصد سے زیادہ رزلٹ دینے والے اسکولوں کو بھی اعزاز سے نوازا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ساندیپنی اسکول کے تصور/منصوبے کو عوام تک پہنچانے کے لیے ایک تفصیلی ایکشن پلان بھی تیار کیا جائے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے افسران سے کہا کہ وہ ایسے اضلاع کی نشان دہی کریں، جہاں تمام اسکولوں میں ہر طرح کی سہولیات دستیاب ہوں، ساتھ ہی مادی اور انسانی وسائل کی کمی والے اضلاع کی بھی ایک الگ کیٹیگری تیار کی جائے۔ اس سے حکومت کو انہی اضلاع پر توجہ مرکوز کرنے میں آسانی ہوگی۔ کمی والے اضلاع پر اسی سال سے کام شروع کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاست کے تمام ضلع تعلیمی افسران مقامی رکن اسمبلی کے ساتھ بیٹھ کر پورے حلقۂ انتخاب کے اسکولوں میں انتظامات کی بہتری کے لیے کوششیں کریں۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ان کی طرف سے وقت وقت پر کیے گئے تمام اعلانات پر جلد از جلد عمل درآمد کرایا جائے۔ ایک سال سے پرانا کوئی بھی اعلان التوا میں نہ رہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے موجودہ وقت میں محکمۂ اسکولی تعلیم کی جانب سے چلائے جا رہے 14 محکمہ جاتی منصوبوں کو جاری رکھنے کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی بہتری کے لیے حکومت ہر ضروری کوشش کرے گی۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ چھوٹے بچوں کی تعلیم کے لیے شروع سے ہی ماحول بنایا جائے۔ محکمۂ ترقیِ خواتین و اطفال بھی اس میں تعاون کرے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی ہدایت پر اب ریاست کی تاریخ میں پہلی بار محکمۂ اسکولی تعلیم اور محکمۂ ترقیِ خواتین و اطفال بچوں کی معیاری تعلیم کے لیے ایک ساتھ مل کر کام کریں گے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ جن ہائی اسکولوں کے آس پاس ہائر سیکنڈری اسکول دستیاب نہیں ہیں، ایسے ہائی اسکولوں کی نشان دہی کر کے انہیں ہائر سیکنڈری اسکولوں میں اپ گریڈ کرنے کی تجویز پیش کی جائے۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاست کے اسکولوں میں پیشہ ورانہ (وکیشنل) تربیت بھی دی جائے۔ ہائی اسکول اور ہائر سیکنڈری کلاسوں میں زراعت، مویشی پروری، ماہی پروری اور دیگر روزگار پر مبنی کورسز کی بھی پڑھائی کرائی جائے۔ پیشہ ورانہ تربیت کے پیشِ نظر، اگر ممکن ہو تو علاقائی سیلف ہیلپ گروپس کو بھی ایسے اسکولوں اور طلبہ سے جوڑا جائے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے محکمہ جاتی افسران کو تمام محکموں کے اسکولوں کو یکجا کرنے کے منصوبے پر تیزی سے کام کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں این سی سی اور این ایس ایس جیسی سماجی خدمات کو فروغ دینے والے یونٹس کی حوصلہ افزائی کریں۔ اسکولوں میں ہیلتھ چیک اپ، ڈرائیونگ لائسنس کیمپ اور اہم مسابقتی امتحانات کی کوچنگ کی سہولت فراہم کرنے کی بھی کوششیں کی جائیں۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ سرکاری اسکولوں سے پاس آؤٹ ہونے والے طلبہ بارہویں جماعت کے بعد اعلیٰ تعلیم، روزگار، زرعی کام، آبائی کاروبار یا ہنر مندی کی تربیت جیسے کس کام/روزگار سے وابستہ ہیں، اس کی ٹریکنگ بھی ہونی چاہیے۔ اس سے حکومت کے پاس ہمارے نوجوانوں کا ایک ڈیٹا بیس تیار ہو جائے گا۔
اجلاس میں سکریٹری اسکولی تعلیم نے بتایا کہ سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے داخلوں میں اضافے کے لیے حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے بیحد مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ سال 25-2024 کے مقابلے سال 26-2025 میں سرکاری اسکولوں کی پہلی جماعت میں داخلوں میں تقریباً 32.4 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔ وہیں نویں سے بارہویں جماعت کے داخلوں میں 4.25 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جو پچھلے سالوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سال ریاست کے تمام سرکاری اسکولوں میں یکم اپریل کو داخلہ فیسٹیول پروگرام منعقد کیا گیا۔ اپریل کے مہینے میں ہی 92 فیصد سے زیادہ طلبہ کو اسکولوں میں داخلہ دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں راج گڑھ ضلع کے بھینسوا ماتا اور نرسنگھ پور ضلع کے گاڈرواڑا میں سنسکرت اسکول شروع کیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اجلاس میں سکریٹری اسکولی تعلیم کی جانب سے ’شکشا گھر یوجنا‘ کے نام سے ایک نئے منصوبے کی پریزنٹیشن دینے پر مجوزہ منصوبے کی تعریف کی اور اصولی منظوری دے دی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت کسی وجہ سے اسکولی تعلیم مکمل نہ کر پانے والے طلبہ کو ہائی اسکول/ہائر سیکنڈری امتحان پاس کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ اس منصوبے سے وہ تمام کشور/کشوری اور نوجوان لڑکے لڑکیاں فائدہ اٹھا سکیں گے، جنہوں نے آٹھویں یا اس کے بعد کی کلاسوں میں فیل ہونے پر پڑھائی چھوڑ دی تھی۔ اس منصوبے کا دائرہ کار پورا مدھیہ پردیش ہوگا، جس میں ریاست کے تمام دیہات، پنچائتیں اور شہری بلدیاتی ادارے بھی شامل ہوں گے۔ اس منصوبے پر عمل درآمد ایم پی اسٹیٹ اوپن اسکول ایجوکیشن بورڈ کے ذریعے کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن