
علی گڑھ, 21 مئی (ہ س)۔
عیدالاضحیٰ سے قبل علی گڑھ میں سڑک پر نماز کی اجازت کے مطالبہ کو لے کر سیاسی بیان بازی تیز ہو گئی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ضلع صدر یامین خان عباسی نے ضلع ہیڈکوارٹر پر اے سی ایم دوم دگ وجے سنگھ کو پانچ نکاتی یادداشت پیش کرتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقوں میں صفائی، پینے کے پانی، بلا رکاوٹ بجلی سپلائی اور تاجروں کی سلامتی جیسے مطالبات اٹھائے۔
یادداشت میں سب سے زیادہ توجہ اس مطالبہ نے حاصل کی جس میں عیدگاہوں پر بھیڑ بڑھنے کی صورت میں سامنے کی سڑک پر نماز ادا کرنے کی اجازت مانگی گئی۔
وزیر اعلیٰ کے سڑک پر نماز نہ ہونے سے متعلق بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یامین خان عباسی نے حکومت پر ایک مخصوص طبقے کی سیاست کرنے کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہا کہ دیگر مذہبی پروگراموں میں بھی سڑکوں کا استعمال کیا جاتا ہے، ایسے میں صرف 15 منٹ کی نماز پر اعتراض دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے شاہ جمال علاقے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی بھیڑ زیادہ ہونے کی صورت میں سڑک پر نماز ادا کی گئی ہے۔
یامین خان عباسی نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر بڑھتی آبادی اور بھیڑ کے پیش نظر مناسب انتظامات کیے جانے چاہئیں تاکہ لوگوں کو سہولت مل سکے۔
تاہم، انتظامیہ کی جانب سے اس مطالبہ پر ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن سڑک پر نماز کی اجازت سے متعلق بیان نے سیاسی اور انتظامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ