
نئی دہلی، 20 مئی (ہ س)َ۔: مغربی ایشیا میں جاری بحران کے درمیان، اقوام متحدہ نے 2 026 کے لئے ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 6.6 فیصد سے کم کر کے 6.4 فیصد کر دی ہے۔ً رپورٹ میں یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2027 میں ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح 6.6 فیصد رہ سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی امور کے محکمہ (ڈی ای ایس اے یو این) کی طرف سے منگل کو جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، ہندوستان سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے، جس میں جی ڈی پی کی شرح نمو 6.4 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی ایشیا کے بحران نے عالمی معیشت کو مزید دھچکا پہنچایا ہے، شرح نمو میں کمی، افراط زر کے دباو¿ میں اضافہ اور غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔
ڈی ای ایس اے یو این میں اقتصادی تجزیہ اور پالیسی کے ڈویڑن کی عالمی اقتصادی نگرانی برانچ کے سینئر ماہر اقتصادیات اور انچارج انگو پیٹرل نے کہا کہ ہندوستان موجودہ عالمی چیلنجوں سے محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان توانائی کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے اور دیگر ذرائع جیسے کہ ترسیلات زر کے حوالے سے بھی حساس ہے، جو کچھ مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔ مزید برآں، عالمی مالیاتی سختی مالیاتی پالیسی کو مزید پیچیدہ کر دے گی۔ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے مالی سال 2026-27 کے لیے ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 6.9 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔ یہ شرح مالی سال 2025-26 کے 7.6 فیصد کے پچھلے تخمینہ سے کم ہے۔ یہ بنیادی طور پر مغربی ایشیا میں تنازعات اور عالمی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے سپلائی چین میں رکاوٹوں کی وجہ سے ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan