
علی گڑھ، 20 مئی (ہ س)۔ اے ایم یو کی فیکلٹی آف کامرس کے سابق ڈین و صدر شعبہ پروفیسر نواب علی خان نے یونیورسٹی آف بزنس اینڈ ٹکنالوجی، جدہ میں ‘‘وِژن 2030 اور ملازمین کی تربیت و ترقی’’ کے موضوع پر ایک لائن خطبہ پیش کیا۔
شعبہ ہیومن ریسورس مینجمنٹ، کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اور ڈین شپ آف گریجویٹ اسٹڈیز کے اشتراک سے منعقدہ اس پروگرام میں گریجویٹ طلبہ اور اساتذہ نے شرکت کی، جو سعودی عرب کے وِژن 2030 کے تحت انسانی وسائل کے بدلتے ہوئے کردار کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔
پروفیسر نواب علی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ تربیت و ترقی دراصل اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہیں، جو علم پر مبنی معیشت کی تعمیر کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے سعودی عرب وِژن 2030 کے اہداف کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، اداروں کو مسلسل مہارت میں اضافہ، صلاحیت پر مبنی ترقی اور افرادی قوت کو بدلتے عالمی چیلنجوں سے ہم آہنگ کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور آٹومیشن کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر خان نے کہا کہ تیزی سے بدلتے پیشہ ورانہ ماحول کے مطابق ملازمین کو تیار کرنے کے لیے نئی مہارتیں سکھانے اور موجودہ مہارتوں کی ازسر نو تربیت دونوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔
آخر میں سوال و جواب کا سیشن ہوا، جس میں شرکاء نے ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں ڈیجیٹل تبدیلی اور ملازمت کی جگہوں کے بدلتے ہوئے ماحول سے متعلق نفسیاتی چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ