
حیدرآباد، 20 مئی (ہ س)۔حیدرآباد میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کے اہم ترین حصے پرانے شہر (ایم جی بی ایس تا چندرائن گٹہ) کی تعمیر میں مسلسل تاخیر اور حکومت کی ترجیحات پر اب عوامی حلقوں میں ناراضگی دیکھی جارہی ہے۔ جہاں ایک طرف حکومت میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کے حوالے سے بڑے بڑے اعلانات کر رہی ہے، وہیں زمینی سطح پر کام شروع کرنے کے بجائے صرف کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرنے پر ضرورت سے زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ 7.5 کیلو میٹر طویل یہ کاریڈور جس پر 2,866 کروڑ روپئے کی لاگت کا تخمینہ ہے۔ سالار جنگ میوزیم، چارمینار اور شاہ علی بنڈہ جیسے تاریخی مقامات سے گزرنا ہے۔ اس روٹ کی تکنیکی حساسیت کے باوجود تنگ سڑکوں کی کشادگی، عمارتوں کی مسماری اور ٹریفک کے متبادل راستوں کے تعلق سے اب تک کوئی واضح منصوبہ بندی سامنے نہیں آئی ہے۔ الزامات لگائے جارہے ہیں کہ حکام یہ کہہ کروقت ضائع کر رہے ہیں کہ تمام مسائل کنسلٹنسی ہی حل کرے گی جبکہ حقیقت میں میدان عمل میں کوئی پیشرفت نظرنہیں آرہی ہے۔ ٹرانسپورٹ شعبہ کے ماہرین نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ مرکزی حکومت اور دیگر متعلقہ محکمہ جات سے حتمی کلیئرنس حاصل کرنے سے پہلے ہی جنرل کنسلٹنسی کا تقررکیاجارہا ہے ۔ اصول آپریشنل میٹروریل اور تنظیمی ڈھانچہ پر مشاورت پروجیکٹ کے آغاز کے بعد ہونی چاہئے لیکن یہاں پٹری بچھانے سے پہلے ہی انتظامی امور پربحث چھڑ گئی ہے۔ میٹروریل سیفٹی کمشنر سے اجازت لینے کے نام پر کنسلٹنٹس کی مدد لینا دراصل پروجیکٹ کی تاخیر پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ پرانے شہر کے عوام نے کہاکہ تجارتی مراکزاور ملٹی ماڈل اینٹی گریشن جیسے خواب دکھانے کے بجائے حکومت فوری طور پرعملی اقدامات کا آغاز کریں۔ مرکز سے ضروری اجازت نامہ اور فنڈس حاصل کرتے ہوئے تعمیری کاموں کا آغاز کریں۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق