
بھوپال، 20 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کی دارالحکومت بھوپال کے تلسی نگر میں واقع جے پرکاش (جے پی) اسپتال کے احاطے میں اے این ایم امیدواروں کی تحریک لگاتار تیز ہوتی جا رہی ہے۔ منگل کو دن بھر مظاہرہ کرنے کے بعد بھی 20 سے 25 خاتون امیدوار رات بھر دھرنے پر ڈٹی رہیں۔ شدید گرمی اور کھلے آسمان کے نیچے خواتین کا دیر رات تک مظاہرہ جاری رہا، جس سے انتظامیہ کی تشویش بڑھ گئی۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے احاطے میں پولیس فورس بھی تعینات کی گئی ہے۔
دھرنے پر بیٹھی خواتین نے حکومت اور محکمۂ صحت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ ان کا صاف کہنا ہے کہ جب تک مستقل تقرری (جوائننگ) نہیں دی جاتی، تب تک تحریک ختم نہیں ہوگی۔
مظاہرہ کرنے والے امیدواروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سال 2023 میں اے این ایم کے مستقل عہدوں کے لیے درخواست دی تھی۔ بھرتی کے عمل میں بے ضابطگیوں کو لے کر معاملہ کورٹ تک پہنچا، جہاں فیصلہ ان کے حق میں آیا۔ اس کے باوجود اب تک انہیں تقرری نہیں دی گئی ہے۔ دھرنے میں شامل امیدوار ممتا ہروے نے بتایا کہ اس سے پہلے بھی کئی بار تحریکیں چلائی جا چکی ہیں۔ یہاں تک کہ 9 دن کا امران انشن بھی کیا گیا تھا۔ اس دوران افسران نے جلد جوائننگ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن 9 مہینے گزر جانے کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
امیدواروں نے الزام لگایا کہ محکمہ کی طرف سے جاری کی جا رہی فہرستیں محض ایک رسم بن کر رہ گئی ہیں۔ بار بار انہی امیدواروں کے نام دہرائے جا رہے ہیں، جن کی تقرری پہلے ہی ہو چکی ہے، جبکہ برسوں سے کنٹریکٹ (سمودا) پر کام کر رہیں اور کووڈ کے دور میں خدمات انجام دے چکیں خواتین کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں صرف ’’یقین دہانی کا لالی پاپ‘‘ دیا جا رہا ہے اور کورٹ کے احکامات کو بھی نذر انداز کیا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے اب وہ آر پار کی لڑائی کے موڈ میں ہیں۔
رات بھر جاری رہنے والے اس دھرنے نے محکمۂ صحت اور انتظامیہ پر دباو بڑھا دیا ہے۔ تاہم اب تک کوئی ٹھوس حل سامنے نہیں آیا ہے۔ ایسے میں اشارے مل رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں یہ تحریک مزیدشدید ہو سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن