
حیدرآباد، 20 مئی (ہ س)۔
سنگاریڈی کے قریب کنڈہ پور منڈ ل کے توگرپلی میں کے جے ایس فوڈ پروسیسنگ سیکنڈ یونٹ کا سنگ بنیاد ڈی سریدھر بابو وزیر صنعت، دامودھر راج نرسمھا وزیرصحت، ایم رگھونندن راو، سریش کمار شیٹکاراراکین پارلیمنٹ، جگاریڈی ورکنگ پریسیڈ نٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی، نرملا جگاریڈی چیرمین تلنگانہ انڈسٹریل انفرا اسٹرکچرکارپوریشن نے رکھا۔ کمپنی 650 کروڑ روپیہ کی لاگت سے 44 ایکر اراضی پر تعمیر ہوگی جس۔میں 1500 مقامی خواتین کو روزگار حاصل ہوگا۔ اس کمپنی میں مختلف برانڈ س کی اشیاء کی پیکجنگ کے علاوہ فوڈ پراسیسنگ ہوگی۔ جگاریڈی اور نرملا جگاریڈی کی کاوشوں کی وجہ سے کمپنی کا قیام حلقہ سنگاریڈی میں عمل میں آیا۔ سنگ بنیاد تقریب کے بعد ڈی سریدھر بابو ریاستی وزیر برائے صنعتیں، آئی ٹی و امور مقننہ نے سنگاریڈی میں منعقدہ پریس کانفرنس سے مرکزی حکومت اور بی جے پی پرشدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت راتوں رات پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرکے غریب اورمتوسط طبقہ کی کمرتوڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی مرتبہ میں پٹرول کی قیمت میں تین روپئے اضافہ کیا گیا جس سے عوام پرمالی بوجھ عائد ہوگا اورگرانی میں اضافہ بھی ہوگا۔ چار ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے دوران قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ انتخابات مکمل ہوتے ہی عوام سے اضافی مالی بوجھ عائد کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ سری دھر بابو نے الزام عائد کیا کہ انتخابات سے صرف دو دن قبل پیٹرولیم عہدیداروں نے کہا تھا کہ پیٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا لیکن اب عوام کو گمراہ کرکے قیمتیں بڑھادی گئی ہیں۔ وزیر نے کہا کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو عوام پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سمجھ سکتے ہیں۔ سابق میں جب بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو بی جے پی حکومت نے پٹرول اورڈیزل کی قیمتیں کیوں کم نہیں کیں؟ انہوں نے سوال کیا کہ گزشتہ دو برسوں میں سب سے کم قیمت پر خام تیل دستیاب ہونے کے باوجود عوام کو راحت کیوں نہیں دی گئی۔ بی جے پی کا یہ فیصلہ غیر دانشمندانہ ہے اور کانگریس پارٹی اس کی سخت مذمت کرتی ہے۔ ۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق