
علی گڑھ، 20 مئی (ہ س)۔ ہندوستان کی مردم شماری-2027 کے تحت مکانات کی فہرست سازی اور مکانات کی گنتی کے عمل کو مؤثر، شفاف اور غلطیوں سے پاک انداز میں مکمل کرانے کے لیے ضلع مردم شماری افسر و ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (مالیہ و محصولات) پرمود کمار نے ضلعی سطح کے افسران اور متعلقہ عملے کو تفصیلی ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ ورک کے ابتدائی تین دن انتہائی اہم ہوں گے اور اسی مدت میں کام کے معیار اور پیش رفت کی حقیقی صورت حال سامنے آئے گی۔
جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ماسٹر ٹرینر، فیلڈ ٹرینر اور حلقہ نویس (لیکھ پال)، انجینئر اور ٹیکس سپرنٹنڈنٹ جیسے افسران، جنہوں نے فیلڈ میں ہاؤس لسٹنگ بلاک (ایچ ایل بی) کی حد بندی کی ہے، انہیں ابتدائی دنوں میں شمار کنندگان (پراگنک) اور سپروائزرز کے ساتھ میدان میں بھیجا جائے۔ اس سے علاقائی حدود اور ہاؤس لسٹنگ بلاک کی درست شناخت ممکن ہوگی اور موبائل ایپ سے متعلق تکنیکی مسائل کا فوری حل بھی نکالا جا سکے گا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (مالیہ) نے ہدایت دی کہ اگر کسی تکنیکی وجہ سے تقرری نامہ یا موبائل ایپ میں دکھایا گیا نقشہ زمینی حقیقت سے مختلف نظر آئے تو فیلڈ کی اصل صورتحال کو ترجیح دی جائے گی۔ حلقہ نویس، انجینئر یا ٹیکس سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے موقع پر متعین کردہ علاقہ اور ایچ ایل بی کو ہی حتمی مانتے ہوئے کام کیا جائے گا۔ ساتھ ہی شمار کنندگان کو ہدایت دی گئی ہے کہ ہر عمارت اور مردم شماری کے مکان کو مارکر سے نمبر دیتے ہوئے سو فیصد کوریج کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے کام کا روزانہ ایچ ایل بی سطح تک گہرا جائزہ لیا جائے گا۔ ڈی آئی او این آئی سی اور چارج افسران سے موصول ہونے والی رپورٹوں کی روزانہ جانچ کی جائے گی۔ ایسے شمار کنندگان جنہوں نے پہلے تین دنوں میں ایک بھی ریکارڈ سنک نہیں کیا ہوگا، ان کے خلاف مردم شماری ایکٹ-1948 کی دفعات کے تحت نوٹس جاری کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے واضح کیا کہ مردم شماری کے کامیاب انعقاد کے لیے فیلڈ سطح پر بیداری، باہمی تال میل اور تکنیکی مہارت انتہائی ضروری ہے۔ ضلع انتظامیہ اس اہم قومی مہم کو مکمل شفافیت اور سنجیدگی کے ساتھ انجام دینے کے لیے پرعزم ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ