اے ایم یو کے شعبہ منافع الاعضاء میں مصنوعی ذہانت پر ورکشاپ کا اہتمام
علی گڑھ، 20 مئی (ہ س)۔ فیکلٹی آف یونانی میڈیسن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے شعبہ منافع الاعضاء میں ‘‘دی اے آئی لینڈ اسکیپ: فاؤنڈیشنز، فرنٹیئرز، اینڈ واٹ کمز نیکسٹ’’ کے عنوان سے ایک ورکشاپ فیکلٹی سیمینار ہال میں منعقد کی گئی۔ پروگرام کا آ
ورکشاپ


علی گڑھ، 20 مئی (ہ س)۔

فیکلٹی آف یونانی میڈیسن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے شعبہ منافع الاعضاء میں ‘‘دی اے آئی لینڈ اسکیپ: فاؤنڈیشنز، فرنٹیئرز، اینڈ واٹ کمز نیکسٹ’’ کے عنوان سے ایک ورکشاپ فیکلٹی سیمینار ہال میں منعقد کی گئی۔ پروگرام کا آغاز ڈاکٹر حافظ اقتدار احمد کے تعارفی کلمات سے ہوا، جنہوں نے نظامت کے فرائض بھی انجام دئے۔ ورکشاپ میں 55 شرکاء نے حصہ لیا، جن میں اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور ایم ڈی اسکالرز شامل تھے۔

کلیدی خطاب برطانیہ سے تعلق رکھنے والے اے آئی ریسرچ کنسلٹنٹ، اے آئی ایتھکس کے مصنف اور ڈیجیٹل انوویشن ماہر مسٹر سید محمد وحید نے پیش کیا۔ انہوں نے جدید اے آئی نظاموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی، جن میں جنریٹیو اے آئی، اے آئی ایجنٹس، ریٹریول آگمینٹیڈ جنریشن ، پرامپٹ انجینئرنگ، اے آئی ماڈل ٹریننگ اور تعلیمی و طبی شعبوں میں اے آئی کے استعمال شامل تھے۔ انھوں نے اے آئی خواندگی، اخلاقی امور اور ابھرتے ہوئے ضابطہ جاتی فریم ورک بشمول ای یو اے آئی ایکٹ پر بھی گفتگو کی، اور شرکاء کو تعلیم، انتظامیہ اور پیشہ ورانہ ترقی میں اے آئی کے وسیع تر کردار کو سمجھنے اور اپنانے کی ترغیب دی۔

اس سے قبل حاضرین کا خیرمقدم کرتے ہوئے شعبہ کے چیئرمین کیپٹن پروفیسر فاروق احمد ڈار نے تعلیمی، طبی اور تحقیقی میدان میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کو محض ‘‘کاپی پیسٹ’’ میکینزم کے بجائے جدت، اسمارٹ ورک اور علمی پیش رفت کے ایک مؤثر وسیلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ آخر میں ڈاکٹر صبا زیدی نے شکریہ ادا کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande