ایران کی میزائل اور ڈرون بنانے کی صلاحیت 85 فیصد ختم کر نے کاٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن،02مئی (ہ س)۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بنیادی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے دعووں کا سلسلہ جاری ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کی شام ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی بھی خراب یا نامناسب معاہدے کی اجازت نہیں د
ٹرمپ کا دعویٰ،ایران کو بحالی کےلئے لگیں گے 20 سال ، محاصرہ کو 100 فی صد موثر قرار دیا


واشنگٹن،02مئی (ہ س)۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بنیادی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے دعووں کا سلسلہ جاری ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کی شام ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی بھی خراب یا نامناسب معاہدے کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے حالیہ فوجی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کا 85 فیصد تباہ کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی بحریہ، جو خطے میں ایک وقت میں سب سے طاقتور سمجھی جاتی تھی، مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور اس کے 159 جہاز اب سمندر کی تہہ میں جا چکے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کی جانب سے عائد کردہ دباو¿ ایران کی حکومت پر اثر ڈال رہا ہے،یہ سب ایران کے اپنے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ایران پر عائد پابندیاں قبل از وقت ختم نہیں کرے گا، ان کے بقول وقت امریکا کے حق میں ہے اور ایران کے خوراک کے ذخائر تین ماہ میں ختم ہو سکتے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں ایک نیا نظام قائم ہو رہا ہے اور واشنگٹن یہ دیکھ رہا ہے کہ بات چیت کس سے کی جائے، کیونکہ ان کے مطابق ایرانی قیادت کی پہلی اور دوسری صف اور تیسری صف کا نصف حصہ ختم کیا جا چکا ہے۔امریکی صدر نے ایرانی قیادت میں وضاحت کے فقدان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کوئی واضح فریق موجود نہیں ،جس سے مذاکرات کیے جا سکیں۔انہوں نے اسلام آباد کے ذریعے پیش کیے گئے ایران کے حالیہ تجویز پر عدم اطمینان کا اظہار بھی کیا۔فوجی آپشن سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس دو ہی راستے ہیں: یا تو معاہدہ کرے یا مکمل تباہی کا سامنا کرے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں۔اسی تناظر میں ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ (Axios) نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع کے اندازے کے مطابق ایران پر عائد غیر معمولی بحری محاصرہ اسے تقریباً 5 ارب ڈالر کی تیل آمدنی سے محروم کر چکا ہے۔ایکس?وس کے مطابق اس وقت خلیج میں مجموعی طور پر 31 تیل بردار جہاز موجود ہیں، جن میں 5 کروڑ 30 لاکھ بیرل ایرانی تیل لدا ہوا ہے، ان کی مالیت کم از کم 4 ارب 80 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران نے نئی آئل ٹینکرز بھرنے میں مشکلات کے باعث پرانے جہازوں کو عارضی ذخیرہ گاہوں کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande