امریکہ کے ساتھ نئی جنگ کا امکان موجود ہے: ایرانی فوجی عہدیدار
تہران،02مئی (ہ س)۔ایک ایرانی فوجی عہدیدار نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان موجود ہے، کیونکہ امن مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہو رہی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےبھی حالیہ ایرانی تجویز پر تنقید کی ہے۔ایرانی خبر ایجنسی
ایرانی پاسداران انقلاب کے مزید انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے : اسرائیلی فوج


تہران،02مئی (ہ س)۔ایک ایرانی فوجی عہدیدار نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان موجود ہے، کیونکہ امن مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہو رہی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےبھی حالیہ ایرانی تجویز پر تنقید کی ہے۔ایرانی خبر ایجنسی’فارس‘کے مطابق خاتم الانبیاءہیڈکوارٹرز میں معائنہ کے نائب سربراہ محمد جعفر اسدی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ تصادم کا امکان موجود ہے۔انھوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ امریکہ کسی بھی وعدے یا معاہدے کی پابندی نہیں کرتا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ انہیں ایران کی طرف سے موصول ہونے والے جواب پر اطمینان نہیں ہے۔ان کے مطابق انہیں واضح نہیں کہ ایران میں کس سے بات کی جائے، اس لیے جاری جنگ کے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران پر برتری حاصل کر رہا ہے اور انہوں نے واضح کیا کہ وہ تہران کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ قبول نہیں کریں گے، جو ان کی شرائط پر پورا نہ اترے۔اس تناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کو مشکل قرار دیا ہے، تاہم وائٹ ہاو¿س نے کانگریس کو ایک باضابطہ خط میں بتایا ہے کہ جنگ 7 اپریل کو ختم ہو چکی ہے۔

اس کے باوجود ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران سے لاحق خطرہ اب بھی موجود ہے، امریکہ اپنی سلامتی اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کے مطابق مسلح افواج کی قیادت جاری رکھیں گے اور کانگریس کی اجازت کے بغیر بھی کارروائی کا حق رکھتے ہیں۔ٹرمپ کا یہ موقف اس وقت سامنے آیا ،جب 60 روز کی مدت ختم ہو چکی ہے، جو فوجی طاقت کے غیر مجاز استعمال کو محدود کرنے والے قانون کے تحت دی گئی تھی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande