اسمبلی انتخابات کے بعد ہونے والے تشدد پر وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری اور اپوزیشن میں بحث، نوشاد صدیقی نے بھی اٹھایا مسئلہ
کولکاتا، 15 مئی (ہ س)۔ مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے جمعہ کو 18 ویں اجلاس کے دوران اسپیکر کے انتخاب کے درمیان ایوان میں گرما گرم سیاسی بحث چھڑ گئی۔ شروع میں ایوان کی کارروائی خوشگوار ماحول میں شروع ہوئی لیکن بعد میں وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری او
اسمبلی انتخابات کے بعد ہونے والے تشدد پر وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری اور اپوزیشن میں بحث، نوشاد صدیقی نے بھی اٹھایا مسئلہ


کولکاتا، 15 مئی (ہ س)۔ مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے جمعہ کو 18 ویں اجلاس کے دوران اسپیکر کے انتخاب کے درمیان ایوان میں گرما گرم سیاسی بحث چھڑ گئی۔ شروع میں ایوان کی کارروائی خوشگوار ماحول میں شروع ہوئی لیکن بعد میں وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری اور قائد حزب اختلاف سوبھندیو چٹرجی کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

وزیر اعلیٰ کے بیان کے بعد بات کرتے ہوئے شوبھندیو چٹرجی نے ریاست میں انتخابات کے بعد تشدد جاری رکھنے کا الزام لگایا۔ بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’آپ لوگوں نے کہا تھا کہ کوئی خوف نہیں ہوگا، بھروسہ ہوگا، لیکن آج کوئی بھروسہ نہیں ہے، اور خوف چار گنا بڑھ گیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ہمیں ایک سکون چوری کرنے والی حکومت کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔

وزیراعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے فوری طور پر ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی کے بے گھر ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر سے کہا، ”اگر کوئی بے گھر ہوا ہے تو براہ کرم ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو مطلع کریں“۔ تاہم، انہوں نے ایک شرط شامل کی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ2021کے الیکشن کے بعد تشدد کے دوران درج ساڑھے12ہزار ایف آئی آر میں جن لوگوں کا نام نہیں ہے، انہیں مقامی ممبراسمبلی اور پولس سپرنٹنڈنٹ خود گھر پہنچائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی واضح رہے کہ جن لوگوں کا نام ایف آئی آر میں شامل ہے انہیں جیل جانا ہوگا۔ایوان میں بھانگڑ سے آئی ایس ایف کے ایم ایل اے نوشاد صدیقی نے بھی انتخابات کے بعد تشدد کا مسئلہ اٹھایا۔ سابق ترنمول کانگریس حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2021 کی جیت کے بعد میں نے سوچا کہ میں چھ ماہ کے اندر استعفیٰ دے دوں گا اگر اس سے ہمارے کارکنوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔نوشاد نے سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خط لکھنے کے باوجود انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بی جے پی کو ’اوپن سرٹیفکیٹ‘ نہیں دے رہے ہیں،لیکن بغیروجہ مخالفت بھی نہیں کریں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande