چین کا مشرق وسطیٰ میں جامع اور مستقل فائر بندی پر زور
بیجنگ ،15مئی (ہ س)۔چین نے مشرق وسطیٰ میں جامع اور مستقل فائر بندی کی ضرورت اور آبنائے ہرمز کو جلد از جلد دوبارہ کھولنے پر زور دیا ہے۔چینی وزارت خارجہ نے آج جمعے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران کے ساتھ بحران کا فوری حل تلاش کرنا امریکہ، ایران
چین کا مشرق وسطیٰ میں جامع اور مستقل فائر بندی پر زور


بیجنگ ،15مئی (ہ س)۔چین نے مشرق وسطیٰ میں جامع اور مستقل فائر بندی کی ضرورت اور آبنائے ہرمز کو جلد از جلد دوبارہ کھولنے پر زور دیا ہے۔چینی وزارت خارجہ نے آج جمعے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران کے ساتھ بحران کا فوری حل تلاش کرنا امریکہ، ایران اور خطے کے ممالک کے لیے فائدہ مند ہو گا، مزید یہ کہ عالمی برادری کے مطالبات کے جواب میں بحری راستوں کو جلد از جلد دوبارہ کھولنا چاہیے۔وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تعمیری اور تزویراتی طور پر مستحکم امریکہ چین تعلقات کی تعمیر کے لیے ایک نئے وڑن پر اتفاق کیا ہے، تاکہ اگلے تین سالوں اور اس سے آگے کے عرصے میں دونوں ممالک کے تعلقات کو اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کی جا سکے، چین امریکہ تعلقات کی مستحکم، درست اور پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکے اور دنیا کے لیے مزید امن، خوش حالی اور ترقی حاصل کی جا سکے۔

جہاں تک ایران کے بارے میں چین کے موقف کا تعلق ہے، وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایران کی صورت حال پر چین کا موقف بالکل واضح ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ تنازع نے ایرانی عوام اور خطے کے دیگر ممالک کے عوام کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔بیان میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ تنازع کے دائرہ کار میں مسلسل توسیع نے عالمی اقتصادی ترقی، سپلائی چینز، بین الاقوامی تجارتی نظام اور توانائی کی عالمی سپلائی کے استحکام کو منفی طور پر متاثر کیا ہے، جس سے عالمی برادری کے مشترکہ مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ اس تنازع کو جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں جسے اصل میں ٹالا جا سکتا تھا اور یہ کہ اس صورت حال کا جلد حل تلاش کرنا امریکہ اور ایران کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک اور پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔

وزارت نے واضح کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان فائر بندی کا حالیہ معاہدہ اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے طریقے تلاش کرنے کی کوششوں کا خطے کے ممالک اور عالمی برادری کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے۔وزارت نے اشارہ کیا کہ چین کا ہمیشہ سے یہ ماننا رہا ہے کہ بات چیت اور مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہیں اور طاقت کا استعمال ایک بند گلی ہے۔وزارت نے کہا کہ اب جبکہ بات چیت کا دروازہ کھل گیا ہے، تو اسے دوبارہ بند نہیں ہونا چاہیے اور یہ ضروری ہے کہ صورت حال کی شدت میں کمی کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے، سیاسی تصفیے کے راستے پر کاربند رہا جائے، بات چیت اور مشاورت میں شامل ہوا جائے اور ایرانی جوہری فائل اور دیگر مسائل کے بارے میں ایسا تصفیہ کیا جائے جس میں تمام فریق کے خدشات کو مدنظر رکھا گیا ہو۔چینی وزارت خارجہ کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی برادری کی پکار پر مثبت رد عمل دیتے ہوئے بحری گزرگاہوں کو جلد از جلد دوبارہ کھولنا اور عالمی سپلائی چینز کے استحکام اور روانی کو مل کر برقرار رکھنا اہم ہے۔

بیان میں جلد از جلد جامع اور مستقل فائر بندی تک پہنچنے کی اہمیت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا تاکہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں جلد از جلد امن و استحکام کی واپسی ممکن ہو سکے اور خطے کے لیے ایک پائیدار سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد رکھی جا سکے۔وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، تنازع کے آغاز سے ہی چین تنازع کو ختم کرنے اور امن کے قیام کے لیے سخت محنت کر رہا ہے، جس کے تحت چینی صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے تحفظ اور فروغ کے لیے 4 تجاویز پیش کی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande