امریکا اور چین تین سالہ ا سٹریٹجک استحکام پر متفق
۔ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان کئی معاہدے طے پا نے کے بعد امریکی صدر وطن روانہ بیجنگ، 15 مئی (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کا دورہ مکمل کرنے کے بعد جمعہ کو بیجنگ سے وطن روانہ ہوگئے۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ دو روزہ بات چیت کی، جس میں
چین


۔ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان کئی معاہدے طے پا نے کے بعد امریکی صدر وطن روانہ

بیجنگ، 15 مئی (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کا دورہ مکمل کرنے کے بعد جمعہ کو بیجنگ سے وطن روانہ ہوگئے۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ دو روزہ بات چیت کی، جس میں ایران اور تائیوان سے لے کر تجارت، تیل اور بوئنگ تک کے مسائل کا احاطہ کیا گیا۔ چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق شی نے کہا کہ امریکہ اور چین نے اگلے تین سالوں کے لیے ’اسٹریٹیجک استحکام‘ پر اتفاق کیا ہے۔

بیجنگ کے دورے کے دوران ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ چین نے امریکی تیل اور سویابین خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین نے بوئنگ سے 200 بڑے کمرشیل طیارے خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ تقریباً ایک دہائی میں امریکی ساختہ طیاروں کی سب سے بڑی خریداری ہے۔ اسے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سی این این، سی بی ایس نیوز، سی این بی سی، فاکس نیوز اور چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کی رپورٹوں کے مطابق اپنے دورے کے دوران ٹرمپ نے 24 ستمبر بروز جمعرات شی کو وائٹ ہاوس میں عشائیہ پر مدعو کیاہے۔

چین نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا شی اس دعوت کو قبول کریں گے۔ دونوں رہنما نومبر میں شینزین میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) اجلاس اور دسمبر میں فلوریڈا میں جی20 اجلاس کے دوران بھی ملاقات کر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بھی ستمبر کے اوائل میں نیویارک میں ہونے والا ہے۔

ٹرمپ نے اس دورے کے دوران شی کے ساتھ تجارتی معاہدوں کی تعریف کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا کہ انھوں نے اور شی جن پنگ نے بیجنگ سربراہی اجلاس کے دوران کچھ اہم معاہدے کیے اور امریکہ ایران تنازعہ کو ختم کرنے کی خواہش کا اشتراک کیا۔ دونوں رہنماوں نے جمعہ کی صبح چین کی طاقت کے مرکز ژونگ نان ہائی گارڈن کمپلیکس میں دو طرفہ ملاقات کی۔ سہ پہر میں، ٹرمپ ایئر فورس ون میں سوار ہوئے اور واپس واشنگٹن روانہ ہوگئے۔

ایک روز قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ چین امریکی طیارے اور زرعی مصنوعات خریدنے پر راضی ہو گیا ہے۔ ان معاہدوں میں امریکہ چین تجارتی بورڈ کی تشکیل بھی شامل ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں رہنما ایران کے معاملے پر یکساں خیالات رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہمارے تعلقات بہت مضبوط ہیں ہم نے واقعی بہت اچھا کام کیا ہے۔

دونوں صدور نے اس سے قبل جمعرات کو بند کمرے میں ملاقات کی، جو تقریباً دو گھنٹے 15 منٹ تک جاری رہی۔ تجارت، ایران اور تائیوان جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ٹرمپ نے ملاقات کو شاندار قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شی نے وعدہ کیا کہ وہ ایران کو کوئی فوجی سازوسامان فراہم نہیں کریں گے۔ شی نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ تہران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق جمعرات کو ہونے والی ملاقات کے دوران شی نے ٹرمپ کو خبردار کیا کہ اگر تائیوان کے معاملے سے صحیح طریقے سے نہیں نمٹا گیا تو یہ تصادم اور جنگ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ یہ ایک سخت انتباہ تھا، لیکن امریکہ نے ملاقات کے حوالے سے اپنے سرکاری بیان میں تائیوان کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ تائیوان چین کے مفادات کے لیے اہم ہے۔ چین اس جزیرے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے، حالانکہ امریکہ نے تائیوان کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی ہے۔

دونوں ممالک کے حکام نے بتایا کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان دو روزہ بات چیت کے دوران اب تک صرف چند ٹھوس معاہدے طے پائے ہیں۔ مزید معاہدے ابھی بھی ممکن ہیں۔ دونوں ممالک پر قریب سے نظررکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ ان سپر پاورز کے درمیان ہنگامہ خیزی کی تاریخ بتاتی ہے کہ ابھی طے پانے والے معاہدے بعد میں ٹوٹ سکتے ہیں۔ اربوں ڈالر کے معاہدوں کو مکمل ہونے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ اس دوران کشیدگی میں اضافہ کے لیے کافی وقت مل جاتا ہے، چاہے وہ جان بوجھ کر ہو یا غیر ارادی طور پر، اور معاہدے ٹوٹ بھی سکتے ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande