ایران کوایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، یورینیئم منتقل کیا تو بم باری کریں گے : ٹرمپ کا اعلان
بیجنگ،15مئی (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ بحران کے حوالے سے ایسے کئی مسائل حل کر لیے گئے ہیں جنہیں دوسرے حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ ن
ایران کوایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، یورینیئم منتقل کیا تو بم باری کریں گے : ٹرمپ کا اعلان


بیجنگ،15مئی (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ بحران کے حوالے سے ایسے کئی مسائل حل کر لیے گئے ہیں جنہیں دوسرے حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے آج جمعے کے روز واضح کیا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایرانی معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے اور وہ دونوں نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں اور وہ آبنائے ہرمز کو کھولنا چاہتے ہیں۔ یہ بات بیجنگ میں ان کے سربراہی اجلاس کے دوسرے اور آخری دن سامنے آئی۔انہوں نے یہ بھی باور کرایا کیا کہ ایران کی جنگ سے متعلق صورت حال کو ختم کرنے کے طریقہ کار پر بہت زیادہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا ’ہم اس صورت حال کو ختم کرنے کے حوالے سے بڑی قربت محسوس کر رہے ہیں‘۔چین کے دورے کے بارے میں ٹرمپ نے وضاحت کی کہ یہ شان دار رہا اور وہ چینی صدر کا بہت احترام کرتے ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر نے ’فوکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ تہران کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانیوں کو معاہدہ کرنا ہی ہو گا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور وہ اس معاملے پر چین کے ساتھ متفق ہیں۔ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر ایران کی ایٹمی تنصیبات کے اندر نقل و حرکت کی کوئی بھی کوشش دیکھی گئی تو وہ ایران کے خلاف براہِ راست فوجی حملے کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ واشنگٹن کسی بھی صورت میں تہران کو ایٹمی ہتھیاروں کی ملکیت کی اجازت نہیں دے گا۔

فوکس نیوز کو دیے گئے بیانات میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ کی سابقہ فوجی کارروائیاں، جن میں ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا شامل تھا، تہران کی ہتھیار بنانے کی کوششوں کو ناکام بنانے میں مدد گار ثابت ہوئیں۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو ’دیوانہ‘ قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر وہ ایٹم بم حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو وہ اسے اسرائیل، مشرق وسطیٰ، یورپ اور خود امریکہ کے خلاف استعمال کریں گے۔امریکی صدر نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ان کے چینی ہم منصب شاید ایران پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، خاص طور پر جبکہ چین ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے پر فیس عائد کرنے کے امکان سے نالاں ہے۔ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ پورے خطے کے ممالک کی خاطر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایران پر زیادہ صبر نہیں کریں گے اور انہوں نے تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ معاہدے کی تکمیل میں تیزی لائے۔ٹرمپ نے کہا ’یہ محض وقت کی بات ہے، اگر ہم نہ رکتے تو یہ معاملہ کچھ اور ہفتوں تک جاری رہ سکتا تھا اور تب یہ ختم ہو جاتا، میں نے یہ کئی رہنماو¿ں کی درخواست پر کیا ہے، میرے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں اور یہ ان کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ ایران کا قصہ ختم ہو چکا ہے، اب وہ یا تو معاہدہ کر سکتے ہیں یا انہیں نیست و نابود کر دیا جائے گا، میں ایسا کرنا نہیں چاہتا‘۔

امریکی صدر نے یہ بھی اشارہ کیا کہ ان کے چینی ہم منصب نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں مدد کی پیشکش کی ہے تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔دوسری جانب چینی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر کے دورے نے اعتماد کو گہرا کیا ہے اور افہام و تفہیم کو فروغ دیا ہے۔ مزید یہ کہ شی اور ٹرمپ نے تزویراتی استحکام کے لیے ایک نئے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے۔اس سے قبل وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ خطے میں جلد از جلد جامع اور مستقل فائر بندی تک پہنچنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ فوری حل کی تلاش امریکہ، ایران اور خطے کے تمام ممالک کے فائدے میں ہوگی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande