تلنگانہ رائزنگ پر وائیٹ پیپر جاری کرے
حیدرآباد، 15 مئی (ہ س)۔ بی آرایس کے ایم ایل سی ڈاکٹرداسو شراون کمار نے کانگریس حکومت کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے ریاست کی مالی حالت کو تباہ کن قرار دے کروزیراعلی کوکھلا مکتوب روانہ کیا اورحکومت کے بلند بانگ دعوے اور3 ٹریلین ڈالرکا اکانومی جیسے نعرےعو
تلنگانہ رائزنگ پر وائیٹ پیپر جاری کرے


حیدرآباد، 15 مئی (ہ س)۔ بی آرایس کے ایم ایل سی ڈاکٹرداسو شراون کمار نے کانگریس حکومت کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے ریاست کی مالی حالت کو تباہ کن قرار دے کروزیراعلی کوکھلا مکتوب روانہ کیا اورحکومت کے بلند بانگ دعوے اور3 ٹریلین ڈالرکا اکانومی جیسے نعرےعوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ داسوشراون نے سال 2025-26 کی حالیہ سی اے جی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی مالیاتی تخمینہ بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ حکومت نے 2.29 لاکھ کروڑ روپئے کی آمدنی کا ہدف رکھا تھا ۔ لیکن حقیقت میں صرف 1.81 لاکھ کروڑ روپئے ہی حاصل ہوسکے جو کہ 20 فیصد کا بڑا خسارہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اسمبلی سے منظور شدہ 54 ہزار کروڑ روپئے کی حد کو پارکرتے ہوئے حکومت نے 77 ہزار کروڑ روپئے سے زائد کا قرض لیا ہے جو سنگین مالی بے ضابطگیوں کی عکاسی کرتا ہے ۔ داسو شراون نے شراب کی آمدنی پر بھی سنگین سوالات اُٹھاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں شراب کی دکانیں تو بھری ہوئی ہیں لیکن سرکاری خزانہ خالی ہے۔ کیا پس پردہ غیرقانونی شراب مافیا سرگرم ہے ۔ وزیراعلی کی دہلی سیاست اور مرکز سے گرانٹس حاصل کرنے کی کوششیں ناکام رہی ہے ۔ جس کا خمیازہ تلنگانہ کے عوام کو بھاری نقصان کی صورت میں اٹھانا پڑرہا ہے۔ بی آرایس کے ایم ایل سی نے اپنے مکتوب میں الزام لگایا کہ حکومت کی تمام تر توجہ عوامی فلاح و بہبود کے بجائے مہنگی تشہیری مہم پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹرشراون نے مطالبہ کیا کہ حکومت ریاست کی اصل مالی حالت پر وائیٹ پیپر جاری کریں اور عوام کو بتایا جائے کہ تلنگانہ کی معیشت مسلسل کمزور کیوں ہورہی ہے۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande