سردار سنگھ اور رانی نے ہاکی انڈیا کے وژن کی تعریف کی، نوجوان کھلاڑیوں کو ہندوستان کا مستقبل قرار دیا
بھوپال، 15 مئی (ہ س)۔ ہندوستانی ہاکی کے قدآور کھلاڑی سردار سنگھ اور رانی نے نچلی سطح پر کھلاڑیوں کو ترقی دینے اور نوجوان ٹیلنٹ کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ہاکی انڈیا کے اقدامات کی تعریف کی ہے۔ دونوں سابق کپتان اس وقت ہندوستانی انڈر 18
سردار سنگھ اور رانی نے ہاکی انڈیا کے وژن کی تعریف کی، نوجوان کھلاڑیوں کو ہندوستان کا مستقبل قرار دیا


بھوپال، 15 مئی (ہ س)۔ ہندوستانی ہاکی کے قدآور کھلاڑی سردار سنگھ اور رانی نے نچلی سطح پر کھلاڑیوں کو ترقی دینے اور نوجوان ٹیلنٹ کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ہاکی انڈیا کے اقدامات کی تعریف کی ہے۔ دونوں سابق کپتان اس وقت ہندوستانی انڈر 18 مردوں اور خواتین کی ہاکی ٹیموں کے ہیڈ کوچ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ہندوستانی انڈر 18 مردوں اور خواتین کی ٹیمیں آئندہ انڈر 18 ایشیا کپ 2026 کی تیاریوں کے ایک حصے کے طور پر بھوپال کے ایس اے آئی سینٹر میں آسٹریلیا کی انڈر 18 ٹیموں کے خلاف چار میچوں کی سیریز کھیل رہی ہیں، جو اس ماہ کے آخر میں جاپان کے کاکامیگھارا میں منعقد ہوگا۔سیریز کے آغاز سے قبل منعقدہ پریس کانفرنس میں سردار سنگھ اور رانی نے کہا کہ ہاکی انڈیا کا یہ اقدام ہندوستانی ہاکی کے مستقبل کو مضبوط بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ہندوستانی انڈر 18 مردوں کی ٹیم کے کوچ سردار سنگھ نے کہا،’ہاکی انڈیا کا یہ اقدام انتہائی قابل ستائش ہے کیونکہ چھوٹی عمر میں کھلاڑیوں پر توجہ مرکوز کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ وہ کھلاڑی ہیں جو مستقبل میں ہندوستان کی نمائندگی کریں گے۔‘

انہوں نے کہا،’ہاکی انڈیا ہر سطح پر کھیل کو فروغ دینے کے لیے بہت اچھا کام کر رہا ہے۔ ہر سال سب جونیئر اور جونیئر قومی چیمپئن شپ منعقد کی جاتی ہے۔ مختلف ریاستوں میں کھلاڑیوں کو کٹس بھی تقسیم کی جا رہی ہیں۔ اگر انفراسٹرکچر، کوچنگ، اور سپورٹ سسٹم میں بہتری آتی رہی تو ہندوستانی ہاکی نئی بلندیوں کو چھو لے گی۔‘

ہندوستانی انڈر 18 خواتین ٹیم کی کوچ رانی نے بھی ہاکی انڈیا کے اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ’میں نوجوان کھلاڑیوں کے لیے انڈر 18 کی سطح پر اس طرح کی پہل شروع کرنے کے لیے ہاکی انڈیا کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ اس سے قبل اس عمر کے گروپ کے کھلاڑیوں کو آسٹریلیا جیسی ٹیم کے خلاف کھیلنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ یہ ان کے لیے سیکھنے کا بہت اچھا تجربہ ہے۔‘

کھلاڑیوں کی ابتدائی نشوونما کو اہم قرار دیتے ہوئے رانی نے کہا، ان لڑکیوں کی اوسط عمر 15 سے 16 سال کے درمیان ہے۔ ان کے سامنے ایک لمبا مستقبل ہے اور وہ 2030 کامن ویلتھ گیمز اور 2032 اور 2036 کے اولمپکس میں ہندوستان کی نمائندگی کر سکتی ہیں۔ یہ ابتدائی تجربہ ان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande