روس کا 355 یوکرینی ڈرون طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ
ماسکو،15مئی (ہ س)۔روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس کے دفاعی نظام نے گذشتہ رات روس کے تقریباً 15 علاقوں میں 355 یوکرینی ڈرون مار گرائے ہیں۔وزارت کی جانب سے آج جمعے کے روز جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے جمعرات کی شام گرین
روس کا 355 یوکرینی ڈرون طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ


ماسکو،15مئی (ہ س)۔روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس کے دفاعی نظام نے گذشتہ رات روس کے تقریباً 15 علاقوں میں 355 یوکرینی ڈرون مار گرائے ہیں۔وزارت کی جانب سے آج جمعے کے روز جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے جمعرات کی شام گرین وچ وقت کے مطابق 20:00 بجے سے جمعہ کی صبح 04:00 بجے کے درمیان 355 یوکرینی ڈرون طیاروں کو روک کر تباہ کر دیا۔

روسی خبر رساں ایجنسی 'اسپٹنک' کے مطابق وزارت نے اپنے بیان میں ذکر کیا کہ ان ڈرونز کو بیلگورود، برائنسک، وولگوگراد، ورونیش، کالوگا، کورسک، اوریول، پسکوف، روستوف، ریازان، سمولینسک، تامبوف، تویر اور تولا کے صوبوں کے ساتھ ساتھ ماسکو، کریمیا، کالمیکیا اور کراسنوڈار کے علاقوں، اور بحیرہ ازوف و بحیرہ کیسپین کے پانیوں کے اوپر تباہ کیا گیا۔دوسری جانب یوکرینی سول ڈیفنس اتھارٹی نے آج جمعے کی صبح سویرے اعلان کیا ہے کہ یوکرین کے دارالحکومت کئیف پر روسی حملوں کی تازہ ترین لہر میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔

یوکرینی میڈیا کے مطابق ریسکیو ٹیمیں ایک تباہ شدہ رہائشی عمارت کے ملبے تلے دبے 17 لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ درجنوں زخمی زیرِ علاج ہیں۔کئیف کے حکام نے گذشتہ روز جمعرات کی شام بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 16 تک پہنچ گئی ہے۔روس نے رات کے وقت شہر اور یوکرین کے دیگر علاقوں پر سیکڑوں ڈرونز، میزائلوں اور کروز میزائلوں سے حملہ کیا، جو کہ جنگ کے آغاز کے 4 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی غیر معمولی طور پر شدید حملہ تھا۔یوکرینی حکام کے مطابق ملک بھر میں درجنوں رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ کئیف کے گرد و نواح کے علاقوں اور خارکیف و اودیسا کے علاقوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔واضح رہے کہ روس نے بدھ کو بھی فروری 2022 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے یوکرین پر اب تک کا ایک شدید ترین اور طویل ترین حملہ کیا تھا جس میں 800 سے زائد ڈرون استعمال کیے گئے تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande