
نئی دہلی، 15 مئی (ہ س):۔
راو¿ز ایونیو کورٹ نے قومی اہلیت داخلہ ٹیسٹ (این ای ای ٹی) کے پرچہ لیک معاملے کے ملزم دھننجے لوکھنڈے کو چھ دن کے لئے سی بی آئی کی حراست میں بھیج دیا ہے۔ خصوصی جج اجے گپتا نے سی بی آئی کی تحویل کا حکم جاری کیا۔
الزام ہے کہ منیشا واگھمارے نے دھننجے لوکھنڈے کونیٹ کا سوالیہ پرچہ فراہم کیا تھا۔ بعد میں دھننجے لوکھنڈے نے شبھم کھیروار کو سوالیہ پرچہ فراہم کیا۔ سی بی آئی نے کہا کہ منیشا واگھمارے سے تفتیش جاری ہے۔
اس سے پہلے 14 مئی کو عدالت نے پانچ ملزمین کو سات دن کے لیے سی بی آئی کی حراست میں بھیج دیا تھا۔ جن ملزمین کو سی بی آئی کی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے ان میں ناسک کے شبھم کھیروار، مانگی لال بیول، وکاس بیول، جے پور کے دنیش بیول اور گروگرام کے یش یادو شامل ہیں۔ شبھم کھیرنار کو 13 مئی کو ممبئی میں گرفتار کیا گیا تھا، جہاں سے اسے دو دن کے ٹرانزٹ ریمانڈ پر دہلی لایا گیا تھا۔ شبھم کھیرنار مہاراشٹر کے ناسک کا رہنے والا ہے۔
سی بی آئی کے مطابق، 3 مئی کو ہونے والے نیٹ امتحان سے پہلے سوالیہ پرچہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کے ذریعے تقسیم کیا گیا تھا۔ سی بی آئی نے 12 مئی کو نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) میں ہائر ایجوکیشن کے ڈائریکٹر ورون بھردواج کی شکایت پر اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی تھی۔
سی بی آئی کے مطابق اپریل میں ناسک کے شبھم نے یش یادو سے رابطہ کیا اور کہا کہ مانگی لال نے ان سے رابطہ کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے نیٹ امتحان کے لیے 10-12 لاکھ روپے میں سوالیہ پرچہ تیار کریں۔ 29 اپریل کو یش یادو نے فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی کے سوالیہ پرچے ٹیلی گرام کے ذریعے پی ڈی ایف فارمیٹ میں دستیاب کرائے ہیں۔ سوالیہ پرچہ حاصل کرنے کے بعد، مانگی لال نے اسے چھاپ کر اپنے بیٹے، امن بیوال، رشتہ داروں اور دیگر جاننے والوں کو فراہم کیا۔
نیٹ کا امتحان، جو 3 مئی کو منعقد ہوا تھا، سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے بعد منسوخ کر دیا گیا ۔ مرکزی حکومت نے معاملے کی سی بی آئی جانچ کا حکم دیا۔ امتحان اب 21 جون کو ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ