
نوی ممبئی کے مسافروں کو برسوں بعد راحت ملنے کی امیدممبئی ، 15 مئی (ہ س) سینٹرل ریلوے اور سڈکو انتظامیہ کے درمیان تال میل کے فقدان کے باعث گزشتہ کئی برسوں سے نوی ممبئی کے ریلوے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ دونوں ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے تھے، جبکہ عام مسافر مسلسل پریشانیوں سے دوچار تھا۔ رکن پارلیمنٹ نریش مہسکے نے اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے دونوں اداروں کے افسران کے درمیان رابطہ قائم کیا اور آج نوی ممبئی کے شیو سینا عہدیداران کے ساتھ چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس میں واقع ہیڈکوارٹر میں ایک اہم میٹنگ منعقد کی۔
اس میٹنگ میں مثبت گفتگو کے بعد ریلوے انتظامیہ نے سڈکو کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام ریلوے اسٹیشنوں کو آئندہ چھ ماہ کے اندر سینٹرل ریلوے کے حوالے کرنے، بارش سے قبل ضروری کام مکمل کرنے اور روزمرہ دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالنے پر رضامندی ظاہر کی۔ اس فیصلے کے بعد نوی ممبئی کے لاکھوں ریلوے مسافروں کے سفر کو زیادہ سہل اور محفوظ بننے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
نوی ممبئی کے ریلوے اسٹیشنوں کی خراب حالت اور مسافروں کو ناکافی سہولیات سے متعلق شکایات نریش مہسکے کو رکن پارلیمنٹ بننے کے بعد مسلسل موصول ہو رہی تھیں۔ انہوں نے “ریلوے صلاحکار کمیٹی” کے رکن کی حیثیت سے دہلی میں منعقد ہونے والی متعدد میٹنگوں میں اس مسئلے کو بار بار اٹھایا تھا۔ انہوں نے اسٹیشنوں کی خستہ حالی، دیکھ بھال کے فقدان اور سیکورٹی مسائل کی وجہ سے عام مسافروں کو پیش آنے والی دشواریوں کی جانب توجہ دلائی تھی۔
مہسکے نے بتایا کہ واشی سے بیلاپور اور کھارگھر سے کھانڈیشور اسٹیشنوں کی دیکھ بھال کے معاہدے بالترتیب 2003 اور 2008 میں ختم ہو چکے ہیں، مگر اس کے بعد کوئی نیا معاہدہ نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایروولی، ربالے، گھنسولی، کوپر کھیرنے، توربھے، بامن ڈونگری، کھارکوپر اور کھارگھر اسٹیشنوں کے لیے آج تک کوئی دیکھ بھال کا معاہدہ ہی نہیں کیا گیا، جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مرکزی وزیر ریلوے نے ریلوے انتظامیہ کو فوری طور پر مسئلہ حل کرنے کی ہدایت دی تھی۔
میٹنگ کے آغاز میں نریش مہسکے نے کہا کہ نوی ممبئی ریلوے کوریڈور کے اسٹیشنوں کا انتظام مؤثر بنانے کے لیے سڈکو کے تحت آنے والے اسٹیشنوں کو جلد از جلد باضابطہ طور پر سینٹرل ریلوے کو منتقل کرنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نو ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ہائی وے کی 6 لیننگ اور مستقبل کے دیگر ترقیاتی منصوبوں کے باعث نوی ممبئی عالمی سطح پر ترقی کر رہا ہے، جس کی وجہ سے موجودہ ریلوے بنیادی ڈھانچے پر زبردست دباؤ پڑنے والا ہے۔
اسی لیے مانکھرد-بیلاپور، تھانے-توربھے-واشی-نیرول اور نیرول-اورن ریلوے روٹس کے تمام اسٹیشنوں کو فوری طور پر سینٹرل ریلوے کے حوالے کیا جائے، اسٹیشنوں کی مرمت اور دیکھ بھال جلد مکمل کی جائے، “امرت بھارت” اسکیم کے تحت نو ممبئی کے اسٹیشنوں کی جدید کاری کی جائے اور بند ٹکٹ کھڑکیاں دوبارہ کھولی جائیں۔ انہوں نے ربالے، دیگھا اور ایروولی اسٹیشن علاقوں میں سب وے اور فٹ اوور برج کے کام بھی فوری شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
نریش مہسکے نے کہا کہ وزیر اعظم اور مرکزی وزیر ریلوے نے ہندوستانی ریلوے کو ملک کی ترقی کا انجن بنانے کا خواب دیکھا ہے، مگر زیر التوا مسائل کے باعث نوی ممبئی خصوصاً ان کے حلقہ انتخاب کے مسافر شدید مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ ریلوے افسران نے میٹنگ میں یقین دہانی کرائی کہ اسٹیشنوں کی منتقلی کا عمل آئندہ چھ ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ بارش سے قبل تمام ضروری اور روزمرہ کے کام ریلوے انتظامیہ انجام دے گی۔ افسران نے اس سلسلے میں آئندہ ہفتے تحریری خط جاری کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
اس موقع پر شیو سینا عہدیداران نے کہا کہ نوی ممبئی کے مسافر کئی برسوں سے شدید مشکلات اور ذہنی اذیت برداشت کر رہے تھے، مگر رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد نریش مہسکے نے اس سنگین مسئلے کی جڑ تک پہنچ کر مسلسل پیروی کی۔ نریش مہسکے نے مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کے مطالبات پر مثبت غور کرتے ہوئے ریلوے حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے