راجوری میں لوگوں نے سڑک اور جل جیون پروجیکٹوں کی عدم تکمیل کے خلاف احتجاج کیا
راجوری میں لوگوں نے سڑک اور جل جیون پروجیکٹوں کی عدم تکمیل کے خلاف احتجاج کیا جموں، 15 مئی (ہ س)۔ ضلع راجوری کے دور افتادہ بدھل علاقے میں ٹران کیوال گاؤں کے مقام پر عوام نے طویل عرصے سے زیر التوا ٹران تا پھگولی سڑک پروجیکٹ اور جل جیون مشن کے کاموں
Protest


راجوری میں لوگوں نے سڑک اور جل جیون پروجیکٹوں کی عدم تکمیل کے خلاف احتجاج کیا

جموں، 15 مئی (ہ س)۔ ضلع راجوری کے دور افتادہ بدھل علاقے میں ٹران کیوال گاؤں کے مقام پر عوام نے طویل عرصے سے زیر التوا ٹران تا پھگولی سڑک پروجیکٹ اور جل جیون مشن کے کاموں میں تاخیر کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاج کی قیادت سابق سرپنچ محمد فارو ق انقلابی نے کی جبکہ کیوال، سیری، چپرولا، پھگولی، چائی اور ملحقہ علاقوں کے سینکڑوں لوگ احتجاج میں شریک ہوئے۔

مظاہرین نے بدھل-راجوری قومی شاہراہ پر دھرنا دے کر کئی گھنٹوں تک ٹریفک معطل رکھا اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ٹران تا پھگولی سڑک کی فوری تکمیل اور گرام پنچایت کیوال لوئر میں جل جیون مشن کے زیر التوا کام جلد مکمل کیے جائیں۔ احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ سڑک پروجیکٹ پر کام سنہ 2004 میں شروع کیا گیا تھا اور تقریباً آٹھ کلومیٹر تک مٹی کا کام مکمل ہونے کے باوجود یہ پروجیکٹ آج تک پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صرف تین کلومیٹر تک گاڑیوں کی آمدورفت ممکن ہے جس کے باعث 20 ہزار سے زائد آبادی کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق ناقص سڑک رابطے کی وجہ سے طلبہ، مریضوں اور بزرگ شہریوں کو روزانہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ پروجیکٹ راجوری اور ریاسی اضلاع کے درمیان انتظامی عدم توجہی کا شکار ہے۔ احتجاجیوں نے مطالبہ کیا کہ منصوبے کو مکمل طور پر ضلع راجوری انتظامیہ کے سپرد کیا جائے، مناسب فنڈز جاری کیے جائیں اور پھگولی سمیت ملحقہ علاقوں تک سڑک کی میکڈمائزیشن فوری طور پر مکمل کی جائے۔

اس دوران مظاہرین نے جل جیون مشن کے کاموں کی سست رفتاری پر بھی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 4 کروڑ 88 لاکھ روپے کی لاگت والے پروجیکٹ کے باوجود اب تک صرف ایک وارڈ کو پینے کے پانی کی سہولت میسر ہوئی ہے جبکہ بیشتر علاقے شدید پانی کی قلت سے دوچار ہیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق سرپنچ فاروق انقلابی نے کہا کہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود سڑک کو مکمل طور پر قابل آمدورفت نہیں بنایا گیا، جس کے باعث عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ماہ رواں کے اختتام تک مطالبات پورے نہ کیے گئے تو لوگ مزید سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ بعد ازاں سول اور پولیس انتظامیہ کے افسران موقع پر پہنچے اور مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے جائز مطالبات اور مسائل کو جلد حل کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande