جموں و کشمیر کے چھ نئے میڈیکل کالجز کے ملازمین کی ہڑتال شروع
جموں و کشمیر کے چھ نئے میڈیکل کالجز کے ملازمین کی ہڑتال شروع جموں، 15 مئی (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے چھ نئے گورنمنٹ میڈیکل کالجوں میں تعینات محکمہ صحت کے ملازمین نے بھرتی اور ترقیاتی قواعد نہ بنائے جانے کے خلاف ایک بار پھر غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع
Health


جموں و کشمیر کے چھ نئے میڈیکل کالجز کے ملازمین کی ہڑتال شروع

جموں، 15 مئی (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے چھ نئے گورنمنٹ میڈیکل کالجوں میں تعینات محکمہ صحت کے ملازمین نے بھرتی اور ترقیاتی قواعد نہ بنائے جانے کے خلاف ایک بار پھر غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کر دی ہے۔ ملازمین کا الزام ہے کہ حکومت کی جانب سے بارہا یقین دہانیوں کے باوجود اب تک مستقل سروس ریکروٹمنٹ رولز اور پروموشن پالیسی مرتب نہیں کی گئی۔ ملازمین اس سے قبل گزشتہ ماہ بھی کئی دنوں تک احتجاج پر رہے تھے تاہم حکومتی یقین دہانی کے بعد انہوں نے ہڑتال عارضی طور پر معطل کر دی تھی۔

احتجاجی ملازمین کا کہنا ہے کہ حکومت نے وعدوں پر کوئی عمل نہیں کیا جس کے باعث انہیں دوبارہ غیر معینہ ہڑتال پر جانے پر مجبور ہونا پڑا۔ہڑتال کے باعث نئے گورنمنٹ میڈیکل کالجوں میں مریضوں کی نگہداشت اور دیگر طبی خدمات متاثر ہونے لگی ہیں۔ احتجاجی ملازمین جموں و کشمیر کے تمام نئے جی ایم سیز کے باہر دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ نئے بھرتی شدہ ملازمین کے لیے مستقل اور واضح سروس ریکروٹمنٹ رولز، سینیارٹی اور ترقیاتی پالیسی فوری طور پر نافذ کی جائے تاکہ ملازمین کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ادھر ضلع راجوری میں بھی احتجاجی دھرنے کے دوران سول سوسائٹی کے متعدد سرکردہ افراد نے شرکت کی اور ملازمین کی حمایت کا اعلان کیا۔ احتجاجیوں نے خبردار کیا کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، ہڑتال جاری رہے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande