یو پی میں طوفانوں سے ہونے والےجانی و مالی نقصانات پر جماعت اسلامی ہند کا اظہار تشویش
نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط بنانے کا کیا مطالبہنئی دہلی،15مئی (ہ س)۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے اتر پردیش کے مختلف اضلاع میں آنے والے طوفان، بارش اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات می
یو پی میں طوفانوں سے ہونے والےجانی و مالی نقصانات پر جماعت اسلامی ہند کا اظہار تشویش


نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط بنانے کا کیا مطالبہنئی دہلی،15مئی (ہ س)۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے اتر پردیش کے مختلف اضلاع میں آنے والے طوفان، بارش اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں ایک سو سے زائد افراد کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے کہا کہ ہم ان تمام خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے اپنے عزیزوں کو اس سانحے میں کھو دیا ہے۔ ہم آفات سے متاثرہ تمام افراد کے ساتھ اپنی دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ قدرتی آفات میں انسانی جانوں کا جانا اور مالی نقصانات انتہائی افسوسناک ہے۔ اگرچہ اس نوعیت کے شدید موسمی واقعات قدرتی ہوتے ہیں، تاہم قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کی ناکامی کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے موجود حفاظتی ڈھانچے پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔

پروفیسر سلیم انجینئر نے مزید کہا کہ اگرچہ ریاستی حکومت نے راحت رسانی اور معاوضے کا اعلان کر دیا ہے، لیکن ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صرف فوری اور علامتی امداد تک محدود نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ آسمانی بجلی گرنے، عمارتوں کے منہدم ہونے اور طوفان سے ہونے والے نقصانات کا سب سے زیادہ اثرغریبوں اور کمزور افراد پر پڑا ہے۔ اس سانحے سے ہمیں یہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ مضبوط بنیادی ڈھانچے، محفوظ رہائش، ابتدائی انتباہی نظام اور عوامی بیداری کے لیے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق موسمی واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ طویل مدتی اور فعال حکمتِ عملی اختیار کریں۔ محض حادثے کے بعد کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے بجائے بچاو¿، تیاری اور سماجی تحفظ پر زور دیا جانا چاہیے۔

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ یہ بات بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ اتنے بڑے انسانی سانحے کو مین اسٹریم اور سوشل میڈیا میں وہ توجہ نہیں ملی جس کا یہ مستحق تھا۔ اتنی بڑی تعداد میں جانوں کا ضیاع کے باوجود اس مسئلے پر خاموشی اس بات کی علامت ہے کہ میڈیا کے بڑے حصے صرف سنسنی خیز اور جذباتی موضوعات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اہم اور حقیقی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں، جس سے جوابدہی کمزور اور رائے عامہ متاثر ہوتی ہے۔ ان حالات میں میڈیا، سول سوسائٹی اور عوامی اداروں کو متاثرہ افراد کی تکلیفوں کو اجاگر کرنا چاہیے تاکہ ان کی مشکلات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان آفات کے اثرات کا جائزہ لے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مضبوط اقدامات نافذ کرے۔ شہریوں کو اس طرح کے سانحات سے تحفظ فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے حکومت کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

گورنمنٹ یونانی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل ضلع بریلی میں

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande