اپنے پڑوسیوں کے لیے ایران کا خطرہ بہت حد تک کم ہو گیا: سربراہ سینٹ کام کا دعویٰ
واشنگٹن،15مئی (ہ س)۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ امریکی بمباری کی وجہ سے اپنے پڑوسیوں اور امریکہ کے مفادات کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت میں نمایاں کمی آگئی ہے اور تہران کا دفاعی شعبہ 90 فیصد پیچھے ہٹ گیا ہے۔ ب
اپنے پڑوسیوں کے لیے ایران کا خطرہ بہت حد تک کم ہو گیا: سربراہ سینٹ کام کا دعویٰ


واشنگٹن،15مئی (ہ س)۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ امریکی بمباری کی وجہ سے اپنے پڑوسیوں اور امریکہ کے مفادات کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت میں نمایاں کمی آگئی ہے اور تہران کا دفاعی شعبہ 90 فیصد پیچھے ہٹ گیا ہے۔ بریڈ کوپر نے ایران کے خلاف فوجی مہم کی تزویراتی کامیابیوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی۔ اس مہم کی انہوں نے نگرانی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ نے مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ کے خطے کے لیے ایران کے پیدا کردہ خطرے کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔

بریڈ کوپر نے ان رپورٹس پر براہ راست تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جن میں بتایا گیا ہے کہ ایران ، جس نے زیر زمین تنصیبات میں ہتھیاروں کا ذخیرہ کر رکھا ہے، نے میزائل اور ڈرون کے شعبے میں بڑی صلاحیتیں برقرار رکھی ہوئی ہیں۔بریڈ کوپر نے امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے کہا کہ ایرانی خطرہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے اور وہ اب علاقائی شراکت داروں یا امریکہ کے لیے اس طرح خطرہ نہیں بن رہا جیسا کہ وہ پہلے مختلف شعبوں میں خطرہ بننے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس کی صلاحیت بہت حد تک کم ہو گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب خطے میں اپنے اہم اتحادیوں، لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثیوں اور غزہ کی پٹی میں حماس کو اسلحہ اور دیگر وسائل منتقل کرنے کے قابل نہیں رہا۔ نقل و حمل کے وہ راستے اور طریقے کاٹ دیے گئے ہیں۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیس نے امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے بعد ایران کے خلاف مزید ٹھوس اقدامات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پروجیکٹ فریڈم کے عمل کو دوبارہ شروع کرنا ممکن ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد امریکی بیڑے کا استعمال کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے گزرنے کو یقینی بنانا تھا۔ اس کے علاوہ امریکہ ایرانی انفراسٹرکچر پر نئے حملے شروع کرنے کے امکان پر بھی غور کر رہا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے بیان دیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کا ملک ہائی الرٹ پر ہوگا۔اس تناظر میں روسی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ سرگئی ناریشکن نے اعلان کیا ہے کہ ایران سے متعلق تنازع کے خاتمے کا امکان اب بھی دور ہے اور کشیدگی کی ایک اور لہر کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ناریشکن نے کہا کہ واشنگٹن اور تل ابیب ایک نسبتاً آسان فتح کی توقع کر رہے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔انہوں نے کہا ایران کے پاس اب بھی بڑی فوجی صلاحیتیں موجود ہیں۔ ناریشکن نے مزید کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور فریقین امن معاہدے کی تجاویز کا تبادلہ کر رہے ہیں لیکن اس تنازع کا کوئی انجام نظر نہیں آ رہا۔ بدقسمتی سے کشیدگی کی ایک اور لہر کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande