
بھارت کی صدارت میں کمبرلی پروسیس کونسل 2026 ممبئی میں منعقدقدرتی ہیروں کی صنعت کے مستقبل پر عالمی سطح پر غور و خوضممبئی ، 15 مئی (ہ س) قدرتی ہیروں سے متعلق عالمی سطح پر تسلیم شدہ “کمبرلی پروسیس” (کے پی) کی 2026 کی بین السیشن کانفرنس بھارت کی صدارت میں ممبئی میں منعقد ہوئی۔ چار روز تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں قدرتی ہیروں کی صنعت کے مستقبل سے متعلق مختلف اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس اجلاس میں کے پی کے رکن ممالک، مبصرین، صنعت سے وابستہ شراکت داروں اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ بھارت دنیا میں ہیروں کی کٹنگ، پالشنگ اور تراش خراش کا ایک اہم عالمی مرکز ہے۔انہوں نے کہا کہ قدرتی ہیرے اعتماد، ذمہ داری اور مشترکہ خوشحالی کی علامت ہیں، جبکہ کمبرلی پروسیس ان اقدار کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس پر بھارت کو فخر ہے۔پیوش گوئل نے کہا کہ بھارت اپنی صدارت کے دوران قدرتی ہیروں کے شعبے میں ضابطوں کی پابندیاور صارفین کا اعتمادکو فروغ دے رہا ہے، جس کا مطلب اعتماد، ضابطوں کی پابندی اور صارفین کا بھروسہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت عالمی منڈی میں تیزی سے بدلتے حالات کے درمیان کمبرلی پروسیس کو مزید مضبوط بنانے اور رکن ممالک کے ساتھ اشتراک بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ قدرتی ہیروں کی صنعت دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے، اس لیے بھارت شفاف اور مضبوط کمبرلی پروسیس کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوشش کرتا رہے گا، تاکہ صنعت اور صارفین دونوں کی توقعات پوری کی جا سکیں۔ بھارت کی صدارت میں منعقد اس کانفرنس میں “3 سی” کے تصور کی بنیاد پر اعتماد، شفافیت اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اجلاس کے دوران مختلف ورکنگ گروپس اور کمیٹیوں نے تکنیکی عمل، گورننس، اعداد و شمار اور دستکاری مصنوعات سمیت کئی اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی۔ مباحثوں میں قدرتی ہیروں کی ویلیو چین میں شفافیت بڑھانے، کام کے طریقہ کار کو بہتر بنانے اور باہمی اعتماد مضبوط کرنے پر خاص زور دیا گیا۔اس موقع پر کے پی 2026 کے صدر سچندر مشرا نے کہا کہ ممبئی کانفرنس میں ہونے والی پیش رفت تمام شریک ممالک اور مبصرین کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے، جو کمبرلی پروسیس کو مزید مؤثر اور قابل اعتماد بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی ہیروں کی تجارت کی بنیاد اعتماد پر قائم ہے اور اسی لیے ذمہ دار ذرائع، شفافیت اور اعتماد کے فروغ کے لیے کمبرلی پروسیس کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔اس بین السیشن اجلاس میں قدرتی ہیروں کی صنعت کے مثبت اثرات، ذمہ دار ذرائع سے حصول، ترقیاتی فوائد اور تجارتی تعاون کو صارفین تک پہنچانے کے لیے رابطہ کاری بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ کانفرنس میں ہونے والی گفتگو کو سال کے آخر میں نئی دہلی میں منعقد ہونے والے کے پی اجلاس میں مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ بھارت نے واضح کیا کہ اپنی صدارت کے دوران اعتماد، ضابطہ جاتی پابندی اور صارفین کے اعتماد پر مسلسل توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔اس اجلاس میں کے پی کے رکن ممالک، ورلڈ ڈائمنڈ کونسل، سماجی نمائندوں، صنعتی اداروں اور دیگر متعلقہ تنظیموں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ کمبرلی پروسیس کی منفرد سہ فریقی ساخت، جو حکومت، صنعت اور سماجی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتی ہے، اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ واضح رہے کہ سن 2000 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 55/56 کے تحت “کمبرلی پروسیس سرٹیفکیشن اسکیم” قائم کی گئی تھی۔یہ ایک عالمی نظام ہے جس کے ذریعے غیر قانونی اور تنازعات سے جڑے ہیروں کو قانونی تجارت میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے، جبکہ قدرتی ہیروں کی سپلائی چین میں ذمہ دار ذرائع کو فروغ دیا جاتا ہے۔ دنیا میں ہیروں کی کٹنگ اور پالشنگ کے بڑے مراکز میں شامل بھارت نے ایک بار پھر قدرتی ہیروں کے شعبے میں شفافیت، پائیداری اور ذمہ دارانہ طریقوں کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے