
اسلام آباد، 15 مئی (ہ س)۔ فرضی انکاونٹر کیلئے بدنام پاکستان کے کاونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے افسران نے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی سے دو افراد کو زبردستی اغوا کر لیا۔ ان افراد میں ایک لیوی افسر بھی شامل ہے جس کا حال ہی میں محکمہ پولیس میں تبادلہ کیا گیا تھا۔
دی بلوچستان پوسٹ نے اطلاع دی ہے کہ مغوی پولیس افسر کی شناخت سراج عرف باگا ولد بانا بگٹی کے نام سے ہوئی ہے۔ دوسرے شخص کی شناخت گل محمد ولد جار خان ہمزانی بگٹی کے نام سے ہوئی ہے۔ گل محمد محکمہ تعلیم میں چوکیدار ہیں۔ اس سال ڈیرہ بگٹی میں ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ 13 مئی کو حاجی عطاءاللہ کے 17 سالہ بیٹے میٹرک کے طالب علم شہاب بلوچ کو دوپہر 2 بجے کے قریب ضلع واشک کے علاقے ناگ میں گھر سے اغوا کیا گیا۔ 11 مئی کو گوادر کے علاقے جیونی پنوان میں ماہی گیر امیر بخش کے 18 سالہ بیٹے یحییٰ بلوچ کو اس کے گھر سے زبردستی لے جایا گیا۔
پاکستان میں، سی ٹی ڈی کو اردو میں محکمہ انسدا دہشت گردی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سی ٹی ڈی پاکستان کی صوبائی پولیس سروس کے تحت کام کرتی ہے۔ اس کا بنیادی کردار دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس کے پاس لامحدود اختیارات ہیں۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ایک سنگین مسئلہ ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی اور انسانی حقوق کی دیگر مقامی تنظیموں کے مطابق صرف 2025 میں 1200 سے زائد افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ جنوری 2026 میں 82 اور فروری 2026 میں 234 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی۔ ان میں سے کئی کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا دعویٰ ہے کہ 6000 سے زائد بلوچ اب بھی لاپتہ ہیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی