
حیدرآباد ، 14 مئی (ہ س) ۔ نیٹ امتحانات کے پرچہ جات کے افشاء اورامتحان کی منسوخی کے خلاف تلنگانہ یوتھ کانگریس کی جانب سے آج حیدرآباد میں احتجاجی دھرنا منظم کیا گیا ۔ یوتھ کانگریس کے ریاستی صدربی شیواچرن ریڈی نے دھرنے کی قیادت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نریندرمودی اورمرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ کی مانگ کی گئی۔ نیٹ امتحانات میں تقریباً 22 لاکھ طلبہ نے حصہ لیا تھا اور پرچہ کے افشاء کے بعدمرکزی حکومت نے امتحان کی منسوخی کا اعلان کردیا۔ حکومت کے اس فیصلہ سے لاکھوں طلبہ کا تعلیمی مستقبل خطرہ میں پڑچکا ہے۔ یوتھ کانگریس کارکنوں نے کہا کہ مرکزی حکومت قومی سطح کے اہلیتی امتحانات کے شفافیت کے ساتھ انعقاد میں ناکام ہوچکی ہیں۔ آل انڈیا یوتھ کانگریس کمیٹی نے نیٹ امتحانات کی منسوخی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے ۔ ٹینک بنڈ کے قریب واقع مجسمہ امبیڈکر کے دامن میں سینکڑوں کی تعداد میں کانگریس اور یوتھ کانگریس کارکنوں نے دھرنا منظم کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ وزیراعظم اور مرکزی وزیر تعلیم کے علامتی پتلے نذر آتش کئے گئے ۔یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ امتحانی پرچہ جات کا افشائملک میں معمول بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت امتحانات کے شفافیت کے ساتھ انعقاد میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 22 لاکھ طلبہ نے امتحانات میں شرکت کی تھی اور انہیں امتحان کی تیاری کے لئے سخت محنت کرنی پڑی۔ امتحانات کی اچانک منسوخی سے طلبہ میں مایوسی پیدا ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوبارہ امتحانات کے لئے طلبہ کو پھر ایک مرتبہ تیاری کرنی پڑے گی۔ نریندر مودی دور حکومت میں ابھی تک تقریباً 89 امتحانی پرچہ جات کا افشاء ہوا ہے اور 48 مرتبہ امتحانات دوبارہ منعقد کئے گئے۔
۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق