
نئی دہلی، 14 مئی (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری بحران کے درمیان خوردہ مہنگائی کے بعد تھوک مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایندھن، بجلی اور خام تیل کی قیمتوں میں تیز اچھال کے باعث اپریل میں تھوک مہنگائی کی شرح بڑھ کر 8.30 فیصد ہو گئی، جو مارچ میں 3.88 فیصد تھی۔
وزارتِ تجارت و صنعت نے جمعرات کو جاری اعداد و شمار میں بتایا کہ ایندھن اور بجلی کے زمرے میں مہنگائی کی شرح اپریل میں 24.71 فیصد ہو گئی، جو مارچ میں 1.05 فیصد تھی۔ اسی کے ساتھ خام تیل کی مہنگائی کی شرح اپریل میں 88.06 فیصد رہی، جبکہ مارچ میں یہ 51.5 فیصد تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق غذائی اشیا میں مہنگائی کی شرح اپریل میں 1.98 فیصد رہی، جو مارچ میں 1.90 فیصد تھی۔ غیر غذائی اشیا میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر اپریل میں 12.18 فیصد ہو گئی، جو گزشتہ ماہ مارچ میں 11.5 فیصد تھی۔
وزارت نے کہا کہ اپریل 2026 میں افراطِ زر معدنی تیل، خام تیل و قدرتی گیس، بنیادی دھاتوں، دیگر تیار شدہ اشیا اور غیر غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث زیادہ رہی۔ ایندھن اور بجلی کے زمرے میں ایل پی جی کی مہنگائی کی شرح اپریل میں 10.92 فیصد رہی۔
تاہم عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافے کے باوجود مرکزی حکومت نے اب تک پٹرول اور گھریلو ایل پی جی کی قیمتوں کو مستحکم رکھا ہے تاکہ صارفین کو قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے بچایا جا سکے۔ البتہ تجارتی ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد