مغربی بنگال میں عوامی مقامات پر گائے اوردیگر جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی
کولکاتا، 14 مئی (ہ س)۔ مغربی بنگال میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے ریاست میں عوامی مقامات پر گائے اوردیگر جانوروں کے ذبیحہ پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے مغربی بنگال اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ 1950 کو سختی سے نافذ کرنے ک
گائے


کولکاتا، 14 مئی (ہ س)۔ مغربی بنگال میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے ریاست میں عوامی مقامات پر گائے اوردیگر جانوروں کے ذبیحہ پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے مغربی بنگال اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ 1950 کو سختی سے نافذ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے عوامی مقامات پر جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی لگا دی ہے۔ ریاست میں نئی حکومت کے قیام کے بعد آنے والا یہ فیصلہ اقلیتی طبقہ کے قربانی کے تہوار سے پہلےکیاجانے والا ایک سخت فیصلہ سمجھاجارہا ہے۔

ریاستی حکومت کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ گائے، بیل، بچھڑا، بھینس اور دیگر مویشیوں کو بغیر کسی درست سرٹیفکیٹ کے ذبح نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت نے واضح کیا کہ کسی بھی جانور کو ذبح کرنے سے پہلے اس بات کی تصدیق کرنی ہوگی کہ اس کی عمر 14 سال سے زیادہ ہے، افزائش نسل یا کام کے لیے نااہل ہے یا بیماری، چوٹ یا خرابی کی وجہ سے مستقل طور پر معذور ہے۔

یہ سرٹیفکیٹ میونسپل صدر یا پنچایت کمیٹی کے چیئرمین اور سرکاری ویٹرنری افسر مشترکہ طور پر جاری کریں گے۔ بغیر اجازت جانوروں کو ذبح کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جن جانوروں کو ذبح کرنے کی اجازت ہے وہ صرف مجاز مذبح خانوں میں ذبح کیے جائیں گے۔ کھلی جگہوں، سڑکوں پر یا عوامی مقامات پر ذبح کرنے کی سختی سے ممانعت ہوگی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو چھ ماہ قید، ایک ہزار روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ ریاستی حکومت نے تمام ضلعی انتظامیہ، میونسپل اور پنچایت عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ قانون کے سخت نفاذ کو یقینی بنائیں۔

حکومت نے یہ قدم کلکتہ ہائی کورٹ کے 2018 کے حکم اور 2022 میں جاری کردہ رہنما خطوط کی بنیاد پر اٹھایا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande