
جمعیت سدبھاونا منچ کی پہل میں مذہبی رہنماوں،ماہرینِ تعلیم اور سماجی کارکنوں نے مشترکہ وراثت اور باہمی مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا
نئی دہلی ، 14 مئی(ہ س )۔
سدبھاونا منچ، جمعیت علماء ہند کے زیرِ اہتمام جمعرات کو رودر اکش کنونشن سینٹر، وارانسی میں “بھارت سنواد” مہم کا شاندار آغاز کیا گیا۔ پروگرام میں مختلف مذاہب، سماجی تنظیموں،تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی سے وابستہ مذہبی رہنماوں، دانشوروں، سماجی کارکنوں اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس میں مکالمہ، سماجی ہم آہنگی، آئینی اقدار اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔ اس کی صدارت جمعیت علماء اتر پردیش کے صدر مولانا مفتی محمد عفان منصورپوری نے کی۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے تاریخی سنکٹ موچن مندر کے مہنت اور بنارس ہندو یونیورسٹی کے پروفیسر وشومبھر ناتھ مشر نے کہا کہ کاشی ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی اور روحانی وراثت کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سرزمین میں تمام طبقات اور برادریوں کی قربانیاں اور تاریخ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا:“اگر کسی برادری کو ملک سے نکالنے کی بات کی جاتی ہے تو پہلے اس مٹی کو نکالنا ہوگا، کیونکہ اس مٹی میں ہر طبقے کا خون شامل ہے۔”
انہوں نے “بھارت سنواد” کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی دوریوں کو ختم کرنے کے لیے مسلسل مکالمہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مولانا محمود مدنی کے ساتھ مل کر اس مہم کو سماج کے ہر طبقے تک پہنچانے کا کام کریں گے۔
ڈایوسیز آف وارانسی کے بشپ ڈاکٹر یوجین جوزف نے کہا کہ مضبوط معاشرے کے لیے صرف بولنا ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سننا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج معاشرے میں غلط فہمیاں اس لیے بڑھ رہی ہیں کیونکہ لوگ ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کم کر رہے ہیں۔ انہوں نے “بھارت سمواد” کو بھائی چارے اور باہمی اعتماد کو مضبوط کرنے والی اہم پہل قرار دیتے ہوئے سن 2030 تک کاشی میں ایک ہزار مکالماتی نشستیں منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔
پہلے اجلاس “مکالمہ اور ہم آہنگی” میں گاندھیئن انسٹی ٹیوٹ آف اسٹڈیز کے سابق ڈائریکٹر اور بنارس ہندو یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے سابق صدر پروفیسر دیپک ملک نے سماج کے آخری فرد تک مکالمہ پہنچانے اور دیہی سطح پر نشستوں کے انعقاد پر زور دیا۔ بی ایچ یو کے پروفیسر پرو. آر کے منڈل نے خوف سے پاک معاشرے کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی آزادی اسی وقت ممکن ہے جب سماج خوف اور امتیاز سے آزاد ہو۔
برہمن مہاسبھا کے جنرل سکریٹری راکیش رنجن ترپاٹھی نے محروم اور پسماندہ طبقات کے ساتھ مکالمے کو سماجی ہم آہنگی کے لیے ضروری قرار دیا۔ سماجی کارکن شروتی نَگونشی نے کہا کہ معاشرہ ذات، طبقے اور نظریاتی خانوں میں تقسیم ہوتا جا رہا ہے، جسے ختم کر کے انسانی اقدار اور سماجی بھائی چارے کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے جمعیت سدبھاو¿نا منچ کے کنوینر مولانا مہدی حسن عینی قاسمی نے کہا کہ “بھارت سنواد” کا مقصد سماج کے مختلف طبقات اور نظریات کے درمیان مثبت مکالمے کو فروغ دینا اور سماجی ہم آہنگی و قومی یکجہتی کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ باہمی اعتماد اور سماجی ہم آہنگی کو مستحکم کرنے کی ایک طویل مدتی مہم ہے۔
دوسرے اجلاس “قوم کی تعمیر میں مکالمے کا کردار” میں کبیر چورا مٹھ کے مفکر امیش کبیر نے سنت کبیر داس کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدم تشدد، سچائی اور بھائی چارے کو زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صرف باتوں سے تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ ہر فرد کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ خوف اور بداعتمادی کو ختم کرنے کا سب سے مو¿ثر راستہ یہی ہے کہ سب لوگ مل جل کر آگے بڑھیں اور سماج میں باہمی اعتماد کو مضبوط کریں۔
پروگریسیو رائٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری اور سینئر ادیب سنجے شریواستو نے کہا کہ آج معاشرے میں بڑھتی ہوئی نفرت اور تلخی تشویش کا باعث ہے اور ملک کو سب سے زیادہ ضرورت بھائی چارے اور باہمی اعتماد کی ہے۔
مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی، جنرل سکریٹری، جمعیت علمائ اتر پردیش نے کہا کہ موجودہ دور میں سماج کے مختلف طبقات کے درمیان دوریاں اور اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں،جنہیں صرف مکالمے،باہمی اعتماد اور سماجی شراکت داری کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت سدبھاو¿نا منچ کا مقصد سماج کے ہر طبقے تک محبت، بھائی چارے، آئینی اقدار اور قومی یکجہتی کا پیغام پہنچانا ہے،انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے محدود دائروں سے نکل کر سماج کے ہر طبقے سے روابط مضبوط کریں۔
تاریخی گیان واپی مسجد کے امام مفتی عبدالباطن نعمانی مفتی شہر بنارس نے کہا کہ تمام مذہبی رہنماو¿ں اور سماجی تنظیموں کو مل کر زمینی سطح پر نفرت اور تقسیم کرنے والی سوچ کے خلاف کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی دوریوں اور غلط فہمیوں کو صرف باہمی مکالمے، بھائی چارے اور انسانیت کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔
پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے جمعیة علماء اتر پردیش کے صدر مفتی سید محمد عفان منصورپوی نے کہا کہ آج کے دور میں معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت باہمی اعتماد،بھائی چارے اور مثبت مکالمے کی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیالات کا مختلف ہونا فطری بات ہے، لیکن اختلاف کو دلوں کی دوری میں بدلنے دینا سماج اور ملک دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی گوناگوں تہذیب، مشترکہ ثقافت اور باہمی بھائی چارے میں پوشیدہ ہے۔ گنگا جمنی تہذیب نے ہمیشہ مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کو جوڑنے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی نفرت، تلخی اور بداعتمادی کو ختم کرنے کے لیے صرف تقاریر کافی نہیں بلکہ زمینی سطح پر مکالمے اور سماجی اشتراک کو فروغ دینا ہوگا،انہوں نے کہا کہ قوم صرف سرحدوں اور جغرافیے کا نام نہیں بلکہ دلوں کے رشتے، باہمی احترام اور مشترکہ ذمہ داریوں کا نام ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ سماج میں محبت، انسانیت، آئینی اقدار اور قومی یکجہتی کے پیغام کو آگے بڑھانے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔
ماحولیاتی کارکن ایکتا شیکھر نے کہا کہ ماحولیات کے ذریعے بھی سماج کے ہر طبقے کو جوڑا جا سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی کارکن شروتی نَگونشی نے سماجی انصاف اور انسانی قدروں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔
کانفرنس میں بھانوجا شرن لال، پرویسر پرینکر اپادھیائے، ڈاکٹر منوج مشرا، پنکج پتی پاٹھک، اشوک داس،اسد کمال لاری، ویومیش شکلا، ڈاکٹر لینن رگھوونشی،اجیت سنگھ ‘گڑیا’، فادر فلپ ڈینس،ایڈوکیٹ تنویر صدیقی،روی شیکھر،وویک اپادھیائے،وویکانند جین سمیت متعدد سماجی، تعلیمی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔
آخر میں حافظ عبیداللہ ریاستی سکریٹری جمعیت علماء اترپردیش نے تمام مہمانوں، مقررین اور شرکائ کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ “بھارت سنواد” مہم کو ملک کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہات تک وسعت دے کر سماجی ہم آہنگی، مکالمے اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنایا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais