
کولکاتا، 14 مئی (ہ س)۔ میونسپل بھرتی گھوٹالے کی جانچ میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی بنگال کے سابق وزیر فائر بریگیڈ سجیت بوس سے وابستہ دو نجی اداروں کے ذریعے مبینہ طور پر کروڑوں روپے کے لین دین کیے گئے۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ بھرتی گھوٹالے کے کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے ان کمپنیوں کا استعمال کیا گیا۔
ای ڈی نے 11 مئی کو سجیت بوس کو گرفتار کیا تھا۔ جانچ ایجنسی کے ذرائع کے مطابق، کیس کے گواہ رہے کچھ تاجروں کے بیانات سے اہم معلومات ہاتھ لگی ہیں۔ جانچ میں پتہ چلا ہے کہ متعلقہ کمپنیوں میں سے ایک خود کو لاجسٹک سروس فراہم کنندہ بتاتی ہے۔
ای ڈی نے سال 2016 میں سجیت بوس اور مذکورہ کمپنی کے درمیان ہوئے ایک معاہدے کی دستاویز بھی ضبط کی ہے۔ یکم اگست 2016 کو ہونے والے اس معاہدے کے مطابق، ’مین پاور سپلائی اینڈ مینجمنٹ‘ خدمات کے عوض کمپنی ہر ماہ ڈھائی لاکھ روپے سجیت بوس کو دیتی تھی۔
جانچ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ اس کمپنی اور ایک سرکاری بینک میں موجود سجیت بوس کے کھاتے کے درمیان مالی لین دین کے شواہد ملے ہیں۔ ای ڈی کے مطابق، کمپنی انتظامیہ نے پوچھ گچھ میں بتایا کہ انڈال، ڈان کونی اور کولکاتا کے ہائڈ روڈ پر واقع گوداموں میں مزدور اکثر کام بند کر دیتے تھے اور لیبر یونینوں کے ساتھ تنازعات ہوتے تھے۔ ایسے معاملات کو حل کرنے کے لیے سجیت بوس کی مدد لی جاتی تھی اور اس کے بدلے میں انہیں ماہانہ ادائیگی کی جاتی تھی۔
تاہم ای ڈی کو شبہ ہے کہ یہ ادائیگی حقیقی لیبر مینجمنٹ سروسز کے لیے نہیں تھی، بلکہ بھرتی گھوٹالے سے وابستہ رقم کو گھما کر سجیت بوس اور ان کے خاندان تک پہنچانے کا ایک ذریعہ تھا۔
جانچ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سجیت بوس کے بیٹے سمدر بوس کے انکم ٹیکس ریٹرن کے مطابق متعلقہ کمپنی نے انہیں 83 لاکھ روپے ادا کیے تھے۔ وہیں ان کی بیٹی موہنی بوس کی انکم ٹیکس دستاویزات میں دوسری کمپنی سے ایک کروڑ سات لاکھ روپے موصول ہونے کا ذکر ملا ہے۔
ای ڈی کا کہنا ہے کہ ان ادائیگیوں کے پیچھے کی واضح وجہ اب تک سامنے نہیں آئی ہے۔ تاہم سمدر بوس پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ای ڈی صرف الزامات لگا رہی ہے اور ایجنسی کو اپنے دعووں کو ثابت کرنا ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن