سپریم کورٹ نے الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق قانون پر سوال اٹھایا ۔
نئی دہلی، 14 مئی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمشنروں کی تقرری میں چیف جسٹس کے رول کو ختم کرنے والے مرکزی حکومت کے قانون پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک کابینی وزیر وزیر اعظم کے خلاف نہیں جا سکتا۔ جسٹس دیپانکر دتا کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ایسی ص
الیشن


نئی دہلی، 14 مئی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمشنروں کی تقرری میں چیف جسٹس کے رول کو ختم کرنے والے مرکزی حکومت کے قانون پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک کابینی وزیر وزیر اعظم کے خلاف نہیں جا سکتا۔ جسٹس دیپانکر دتا کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ایسی صورت میں تمام تقرریوں کا فیصلہ ایک تہائی اکثریت سے ہونا چاہیے۔

سماعت کے دوران، سپریم کورٹ نے پوچھا، اگر چیف جسٹس آف انڈیا سی بی آئی ڈائریکٹر کے انتخاب کے عمل میں شامل ہیں، تو چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری کے لیے آزادانہ عمل کیوں نہیں ہونا چاہیے؟ عدالت نے کہا کہ یہ بھی اہم ہے اور الیکشن کمیشن کی خود مختاری جمہوریت میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

اس سے قبل، 7 مئی کو ایک سماعت کے دوران، سپریم کورٹ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ملک میں حکومتوں نے الیکشن کمیشن کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے قوانین نہیں بنائے ہیں۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل پرشانت بھوشن سے پوچھا کہ برنوال کے فیصلے سے پہلے پارلیمنٹ نے کوئی قانون سازی کیوں نہیں کی تھی۔

دراصل، 2023 کے انوپ برنوال کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کو الیکشن کمشنروں کی تقرری کے پینل میں شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔ سماعت کے دوران جب عدالت نے پرشانت بھوشن سے پوچھا کہ برنوال کے فیصلے سے پہلے پارلیمنٹ نے قانون کیوں نہیں بنایا تو بھوشن نے جواب دیا کہ ہر حکومت نے قانون کی کمی کا فائدہ اٹھایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں اس کا غلط استعمال کرتی رہی ہیں۔ جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو غیرجانبدار ہونا چاہیے لیکن جب وہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو اس پر غور کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

اے ڈی آر کے علاوہ جیا ٹھاکر کی طرف سے بھی اس معاملے میں ایک عرضی داخل کی گئی ہے۔ درخواست میں چیف جسٹس کو سلیکشن کمیٹی میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں پریکٹس کرنے والے کچھ وکلاءنے بھی اس معاملے پر درخواست دائر کی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مرکزی حکومت کی طرف سے لائے گئے نئے قانون کو چیلنج کرتے ہوئے عرضی میں ملک کے چیف جسٹس کو چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کی تقرری کے پینل میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ انتخابات میں شفافیت کے پیش نظر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے پینل میں چیف جسٹس کو شامل کرنا ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے 2 مارچ 2023 کے فیصلے میں کہا کہ چیف جسٹس کو چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے پینل میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے بعد، مرکزی حکومت نے ایک نیا قانون نافذ کیا، جس میں تقرری کے عمل میں چیف جسٹس کی جگہ ایک کابینہ وزیر کو شامل کیا گیا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande