راجستھان حکومت کی چمبل سینکچری میں غیر قانونی کان کنی پرسپریم کورٹ کی سرزنش، افسران کو 19 مئی کو عدالت میں طلب کیا۔
نئی دہلی، 14 مئی (ہ س) سپریم کورٹ نے راجستھان حکومت کی چمبل سینکچری میں غیر قانونی کانکنی جاری رکھنے پر سرزنش کی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے ریاست کے کئی عہدیداروں کو 19 مئی کو عدالت میں طلب کیاہے۔ عدالت نے راجستھان حکومت کے ایڈیشنل
طللب


نئی دہلی، 14 مئی (ہ س) سپریم کورٹ نے راجستھان حکومت کی چمبل سینکچری میں غیر قانونی کانکنی جاری رکھنے پر سرزنش کی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے ریاست کے کئی عہدیداروں کو 19 مئی کو عدالت میں طلب کیاہے۔

عدالت نے راجستھان حکومت کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم)، کان کنی، خزانہ، جنگلات، ماحولیات، ٹرانسپورٹ اور روڈ سیفٹی کے محکموں کے چیف سکریٹریوں کو ذاتی طور پر حاضر ہونے کی ہدایت کی۔ عدالت نے ان تمام عہدیداروں کو عدالت کے سابقہ حکم کی تعمیل کرنے کے لیے اپنے اقدامات کو بیان کرتے ہوئے حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت کی۔

سپریم کورٹ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کان کنی والے علاقوں میں ٹریکٹروں اور گاڑیوں کی بلا روک ٹوک نقل و حرکت پر نظر نہیں رکھی جا رہی ہے۔ عدالت نے غیر قانونی کانکنی مواد کی نقل و حمل کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات طلب کیں۔ اس سے قبل، 17 اپریل کو، چمبل سینکچری، راجستھان، مدھیہ پردیش، اور اتر پردیش میں غیر قانونی کان کنی پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ہائی ریزولوشن سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے اور جی پی ایس ٹریکنگ کو لاگو کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر غیر قانونی کان کنی کا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے تو متعلقہ حکام فوری ایکشن لینے، ٹیم موقع پر بھیجنے اور سخت ایکشن لینے کے ذمہ دار ہوں گے۔

عدالت نے ریاستی حکومتوں کو یہ یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی کہ غیر قانونی کان کنی سے متاثرہ علاقوں میں بلند ستونوں پر ہائی ریزولوشن سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں، ان کے لائیو فیڈز کی براہ راست نگرانی ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) یا ایس ایس پی (ایس ایس پی) اور متعلقہ فاریسٹ آفیسر کریں۔ عدالت نے ان احکامات کی خلاف ورزی کو توہین قرار دیتے ہوئے افسران کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیاتھا۔ سپریم کورٹ نے ان ریاستوں کو حکم کی تعمیل سے متعلق حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ کان کنی کی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی مشینری جیسے ٹریکٹرز، ارتھ موورز اور لوڈرز میں جی پی ایس ٹریکنگ ڈیوائسز نصب کی جائیں۔ اس سے ان گاڑیوں کی حقیقی وقت میں نگرانی کی جا سکے گی۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ چمبل کے علاقے سے گزرنے والی تمام گاڑیوں کو ٹریکروں سے لیس کیا جانا چاہیے تاکہ ریت کی غیر قانونی نقل و حمل کو موثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے۔

اس سے قبل کی سماعت کے دوران، عدالت نے مدھیہ پردیش کے مورینا میں ایک فارسٹ گارڈ پر ریت مافیا کے ٹریکٹر ٹرالی کے حملے پر سخت اعتراض کیا تھا۔ عدالت نے مدھیہ پردیش کے افسران کو سرزنش کرتے ہوئے پوچھا، جب ریاستی مشینری اپنے افسران اور قدرتی وسائل کی حفاظت میں ناکام رہتی ہے تو اس کا کیا فائدہ؟ اہلکاروں کی ناک کے نیچے غیر قانونی کان کنی ہو رہی ہے۔

2 اپریل کو عدالت نے دریائے چمبل میں غیر قانونی کان کنی سے جنگلی حیات کو پہنچنے والے نقصان پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ کان کنی مافیا دریائے چمبل کے نئے ڈاکو ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ راجستھان میں کان کنی مافیا پولیس، جنگلات اور انتظامی اہلکاروں کو مار رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے راجستھان حکومت کے ایک نوٹیفکیشن پر بھی روک لگا دی جس میں چمبل سینکچری کے 732 ہیکٹر کو محفوظ علاقے سے خارج کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande