
بیان کو لے کر مفتی عبداللہ ندوی کی وضاحت، کہا: “ہمیشہ محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کا پیغام دیا”
علی گڑھ, 14 مئی (ہ س)۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے اپنے بیان کے بعد سماجی کارکن اور مذہبی رہنما مفتی عبداللہ ندوی نے تفصیلی وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، جس کے باعث معاشرے میں غیر ضروری غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔
مفتی عبداللہ ندوی نے کہا کہ وہ ہندو-مسلم اتحاد، بھائی چارے اور باہمی محبت پر یقین رکھتے ہیں اور تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس علاقے میں وہ رہتے ہیں وہاں ہندو برادری کے ساتھ ان کے نہایت خوشگوار تعلقات ہیں اور سب لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اپنے انٹرویو میں انہوں نے کانوڑ یاترا کی مثال صرف بہتر انتظامی نظم و نسق کے تناظر میں دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح بڑے مذہبی اجتماعات کے دوران انتظامیہ ٹریفک اور سیکورٹی کا مناسب بندوبست کرتی ہے، اسی طرح اگر کسی مقام پر خالی جگہ، متبادل راستہ اور کم ٹریفک موجود ہو تو انتظامیہ حالات کے مطابق محدود وقت کے لیے مناسب انتظام کر سکتی ہے۔
مفتی عبداللہ ندوی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کے بیان کے چند حصوں کو کاٹ کر اس انداز میں پیش کیا گیا جیسے وہ سڑک بند کرکے نماز ادا کرنے کی بات کر رہے ہوں، جبکہ وہ خود سڑک جام کرنے، عوام کو پریشان کرنے یا راستہ روک کر عبادت کرنے کے سخت خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام بھی کسی کو تکلیف پہنچا کر عبادت کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور صفحات ادھوری ویڈیوز اور اشتعال انگیز سرخیوں کے ذریعے تنازع پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے معاشرے میں کشیدگی اور نفرت کو فروغ ملتا ہے۔
مفتی عبداللہ ندوی نے یہ بھی واضح کیا کہ انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے یا کوئی یادداشت دینے کی خبریں بھی بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف عید سے قبل ہونے والی پیس کمیٹی کی میٹنگ میں اپنی بات رکھنے کی بات تھی، جبکہ حتمی فیصلہ ہمیشہ انتظامیہ کا ہی ہوتا ہے اور وہ ہر فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی پوری زندگی سماجی خدمت، معاشرتی اصلاح اور ملک میں بھائی چارہ قائم رکھنے کے لیے وقف رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے نعرے “سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اسی جذبے کے ساتھ معاشرے میں محبت، بھائی چارہ اور باہمی اعتماد کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آخر میں مفتی عبداللہ ندوی نے کہا کہ اگر ان کی کسی بات سے کسی کو دکھ پہنچا ہو یا کوئی لفظ نامناسب محسوس ہوا ہو تو انہیں اس کا افسوس ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ادھوری ویڈیوز یا گمراہ کن سرخیوں کی بنیاد پر رائے قائم نہ کریں بلکہ ان کے پورے بیان کو صحیح تناظر میں سمجھیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ