کانگ پوکپی واقعہ کے بعد منی پور کے کوکی زو علاقے میں شدید کشیدگی
امپھال، 14 مئی (ہ س) ۔ منی پور کے کانگ پوکپی ضلع کے کوکی-زو کے زیر اثر علاقے میں ایک گھات لگا کر حملے میں چرچ کے تین ارکان کی ہلاکت اور چار دیگر کے شدید زخمی ہونے کے بعد زبردست احتجاج جاری ہے۔ منی پور پولیس ہیڈکوارٹر نے جمعرات کو ایک سرکاری بیان
کانگ پوکپی واقعہ کے بعد منی پور کے کوکی زو علاقے میں شدید کشیدگی


امپھال، 14 مئی (ہ س) ۔

منی پور کے کانگ پوکپی ضلع کے کوکی-زو کے زیر اثر علاقے میں ایک گھات لگا کر حملے میں چرچ کے تین ارکان کی ہلاکت اور چار دیگر کے شدید زخمی ہونے کے بعد زبردست احتجاج جاری ہے۔

منی پور پولیس ہیڈکوارٹر نے جمعرات کو ایک سرکاری بیان میں کہا کہ 13 مئی کو کانگ پوکپی ضلع کے نیو کیتھل مانبی پولیس اسٹیشن کے تحت صاحبونگ گاو¿ں کے قریب سے گزرنے والی دو گاڑیوں پر نامعلوم بندوق برداروں نے بلا اشتعال فائرنگ کی جس میں تین شہری ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوئے۔

سیکورٹی فورسز نے جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے اطراف کے علاقوں کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

اس واقعے سے متاثرہ علاقے میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور غم و غصہ پھیل گیا ہے۔ کوکی زو سے جڑے سب سے بڑی مذہبی تنظیم کو کی ان پی ، منی پور نے چرچ سے جڑے لوگوں پر ہوئے قاتلانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے امن پر حملہ قرار دیاہے۔

کانگ پوکپی میں کوکی زو چرچ کے ارکان کے قتل نے بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا ہے۔ کوکی تنظیموں نے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ کل رات منی پور کے کانگ پوکپی کے ضلع اسپتال کے باہر گھات لگا کر ہلاک ہونے والوں کی لاشیں لینے کے لیے ہزاروں لوگ جمع ہوئے۔ لوگ رات بھر اسپتال کے باہر جمع ہوتے دیکھے گئے، دعائیں مانگتے رہے۔ اس قتل کے خلاف منی پور کے کوکی انپی نے کوکی-زو کے زیر اثر علاقوں میں 48 گھنٹے کے بند کا اعلان کیا ہے۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی منی پور کے وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے بدھ کی شام کو شیجا اسپتال کا دورہ کیا اور کانگ پوکپی حملے کے متاثرین سے ملاقات کی اور حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے قصورواروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔

دریں اثنا، منی پور کے نائب وزیر اعلیٰ نیمچا کپگن نے کہا کہ تین افراد پر وحشیانہ حملے کو کسی بھی طرح سے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور انہوں نے کانگ پوکپی میں ہلاکتوں کی شدید مذمت کی۔

منی پور میں جاری تشدد اور کشیدگی کے درمیان، کانگ پوکپی واقعہ نے ایک بار پھر عوامی احتجاج کی کھائی کو وسیع کر دیا ہے۔ تاہم پورے علاقے میں سیکورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی کی گئی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande